خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 228
خطبات ناصر جلد هشتم ۲۲۸ خطبہ جمعہ ۲۲ جون ۱۹۷۹ء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہے روحانی۔اس نوے سالہ زندگی میں ہر وہ بشارت پوری ہوتی ہم نے دیکھی جس کا وعدہ ہم سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا یا آپ کے طفیل آپ ہی کی بنیادی بشارتوں کے نتیجہ میں حضرت مہدی علیہ السلام نے ہمارے ساتھ کیا۔اتنا سا آپ چندہ دے دیتے ہیں اور اتنے ملک ہیں وہ۔پیچھے غانا میں کچھ ان کے حساب کتاب کی مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی۔وہاں مبلغ انچارج خود غانین ہیں عبدالوہاب بن آدم۔ان کو میں نے کہا آجاؤ مشاورت بھی دیکھ لو کئی سال سے آئے نہیں اور تم سے باتیں بھی کرنی ہیں۔آپ نے چھ ملکوں میں نصرت جہاں سکیم کے ماتحت کام کرنے کے لئے جماعت کو خدا تعالیٰ کی خوشنودی کے حصول کے لئے نیک نیتی کے ساتھ کیونکہ اس کا نتیجہ ایسا ہی نکلا باون لاکھ روپیہ دیا تھا۔جب وہ یہاں آئے تو یہ ۱۹۷۰ء اور ۱۹۷۳ء کے درمیان یہ رقم باون لاکھ جمع ہوئی ہے تو کئی کروڑ روپیہ جو صرف غانا میں خرچ ہو چکا ہے۔میں نے ان سے کہا ہر ہفتے تمہاری طرف سے مطالبہ آتا ہے کہ جی تین لاکھ کی منظوری دے دیں۔وہ صرف منظوری مجھ سے لیتے ہیں۔باقی سارا کچھ انہی کے اختیار میں ہے۔پانچ لاکھ کی منظوری دے دیں۔ہمیں لاکھ کی منظوری دے دیں۔میں بعض دفعہ گھبرا جاتا ہوں کہ پتا نہیں تمہارے پاس پیسے ہیں بھی یا نہیں اور مجھ سے تم منظور یاں لیتے جاتے ہو۔خرچ کرتے جاتے ہو۔مجھے بتاؤ تو سہی۔کہنے لگے کہ وہ سارے اخراجات جو ہو چکے پچھلے سالوں میں ہمارے پاس ڈیڑھ کروڑ روپیہ بنک میں پڑا ہے۔اس واسطے اور ان کے لئے جو وہاں میں نے بھیجے تھے ڈاکٹر۔ان کو پانچ سو پاؤنڈ یعنی دس ہزار روپیہ میں دیتا تھا اور ان کو میری ہدایت تھی کہ چھتر بنا کے بیٹھ جاؤ اور خدا کی راہ میں خدمت کرو اس کی مخلوق کی۔ان کو ضرورت ہے یا نہیں؟ یہ میرا اور تمہارا کام نہیں۔چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے شروع میں مجھے کہا ان کا دماغ تاجرانہ بھی ہے، وکیلا نہ بھی ہے۔مجھے کہنے لگے آپ یہ باون لاکھ روپیہ کے حصے خرید لیں تو یہ جو Dividend ملے گا اس سے اپنے پروگرام چلائیں۔خیر میں ان کی بات سنتا رہا۔پھر میں مسکرایا۔میں نے کہا چوہدری صاحب! مجھے زیادہ سے زیادہ کتنا Dividend مل جائے گا۔کہنے لگے زیادہ سے زیادہ بہت اچھی بھی اگر کوئی کمیٹی ہو اور کامیاب ہو تو آپ کو بارہ فیصد مل جائے گا۔