خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 224 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 224

خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۲۴ خطبہ جمعہ ۲۲ جون ۱۹۷۹ء بشارت ہوگئی نا اعظمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللهِ وَ أُولَبِكَ هُمُ الْفَابِزُونَ کا میابی بڑی ہے۔يُبَشِّرُهُم رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ ان کو بشارت دو۔یہ ساری بشارتیں ہی ہیں جس کو میں نے کہا تھا نا بشارت۔آپ کسی کو کسی کا دماغ ادھر نہ چلا جائے کہ وہ تو جزا ہے۔کوئی جزا نہیں۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ (التوبة : ۲۱) خدا تعالیٰ اپنی رحمت کی انہیں بشارت دیتا ہے۔رضوان اور اپنی رضا کی انہیں رحمت دیتا ہے۔وَجَنْتٍ لَّهُمْ فِيهَا نَعِيمٌ مُّقِيمٌ ابدی نعماء والی وو، جنتوں کی انہیں بشارت دیتا ہے۔جن میں وہ ہمیشہ رہتے چلے جائیں گے۔اور خدا تعالیٰ بڑا اجر۔دینے والا ہے لیکن هَاجَرُوا وَ جَهَدُوا فِي سَبِيلِ اللهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَ انْفُسِهِمْ یہاں جہاد کے معانی کا تجزیہ کر کے ، اس کو کھول کے بیان کر دیا ہے، اپنے اموال سے اور اپنے نفسوں سے یعنی خدا تعالیٰ کے لئے اپنے نفوس کی تہذیب کرنا، انہیں پالش کرنا اور خدا کی ، ملتِ اسلامیہ اور اشاعت اسلام کے لئے اپنے اموال کو خرچ کرنا۔قرآن کریم نے جہاد کو تین بنیادی معنوں میں استعمال کیا ہے۔اپنے نفس کو پالش کرنا یعنی ساری برائیوں کو پاک کر کے۔وہ پاک ہے خدا تعالیٰ پاک ہے نا اور پاک کو پسند کرتا ہے۔پاکیزگی میں اس جیسا بنے کی کوشش کر نا انسان خدا نہیں بن سکتا یہ درست ہے لیکن انسان بننے کی کوشش کر سکتا ہے۔اس کے دل کی یہ تڑپ جو ہے وہ خدا تعالیٰ کو پسند آتی ہے۔خدا کہتا ہے میرا یہ عاجز بندہ، جو میری عظمت اور پاکیزگی ہے اس کے اربویں حصے تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔طاقت ہی نہیں اس کو میرے مقابلے میں لیکن دل میں ایک جلن ہے، ایک آگ ہے، ایک تڑپ ہے، ایک لگن ہے وہ کہتا ہے میں بھی اپنے خدا کی طرح پاک بن جاؤں۔خدا تعالیٰ کو وہ جو اس کی لگن اور تڑپ ہے اور جو نیت ہے، جو کوشش اس کے لئے وہ کر رہا ہے وہ پسند آتی ہے۔بعض استاد کسی زمانے میں پرچے تول کے نمبر دے دیا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ پرچے تول کے نمبر نہیں دیتا۔اللہ تعالیٰ تو اخلاص پر نگاہ رکھتا ہے اور اپنے پیار سے اٹھا کے اور اپنی گود میں رکھ لیتا ہے۔اتنی عظیم بشارتیں ہیں۔بشارت کا لفظ بھی یہاں استعمال ہوا ہے لیکن وہ لوگ جو، انذار کا پہلو بھی ہے اگر تم ہجرت اپنے پورے معانی میں جو ہجرت کے ہیں جو خدا تعالیٰ نے بیان کئے ہیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اوپر روشنی ڈالی ہے، آپ کے اُسوہ میں وہ چیز ہمیں نظر آتی ہے، اس کے مطابق ہجرت