خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 201
خطبات ناصر جلد هشتم ۲۰۱ خطبہ جمعہ یکم جون ۱۹۷۹ء کو جہنم کا ایندھن بھی قرار دیا گیا اور ان کا ٹھکانہ بھی بتایا گیا اور شرک کوسب سے زیادہ ظلم اور سب سے بڑا گناہ بھی قرار دیا گیا۔اپنی جگہ یہ بھی حقیقت ہے لیکن بت کو بھی گالی دینے کی اجازت نہیں دی گئی جو نہ سنتا ہے نہ سمجھتا ہے تاکہ مسلمان یہ سبق سیکھے کہ میں امن کو پیدا کرنے کے لئے کھڑا کیا گیا ہوں ، سلامتی کو قائم کرنے کے لئے کھڑا کیا گیا ہوں ، ادا ئیگی حقوق مجھ پر فرض ہوتے ہیں، حقوق تلف کرنا میرا کام نہیں۔تو حقیقت کا بیان گالی نہیں ہے۔حقیقت کا بیان گالی نہیں کہلا سکتا اس وجہ سے جب خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں کہا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ حقیقت دنیا پر ظاہر کی۔مکی زندگی کے شروع زمانے میں آگئے آپ کے مخالف کہ ہمارے بتوں کو خداؤں کو یہ بُرا بھلا کہتا ہے۔آپ برا بھلا نہیں کہتے تھے جو خدا کہتا تھا وہ ان کو سنا دیتے تھے۔اس لئے نہیں کہ غصہ نکال رہے تھے، اس لئے کہ ہمدردی کر رہے تھے۔جو بچہ آگ مانگتا ہے ماں سے، ماں اسے کہتی ہے کہ دیکھو اسے نہ پکڑو نہ میں تمہیں دوں گی کیونکہ تم جل جاؤ گے۔تو یہ بختی تو نہیں ہے، یہ دشمنی تو نہیں ہے۔یہ تو شفقت اور خیر خواہی کا نتیجہ ہے۔حقیقت کا بیان اپنی جگہ ہے۔اس میں خلط نہیں کرنا چاہیے۔لیکن جہاں تک جذبات کے خیال رکھنے کا سوال ہے تو اس وقت حکم یہ ہے کہ بت کو بھی گالی نہیں دینی۔اس کی مثال میں میں نے آج کے لئے چنا ہے واقعہ جنگ اُحد کا۔یہ دوسری جنگ ہے ہجرت کے بعد۔ہجرت کے تیسرے سال میں یہ ہوئی اور بدر میں جو شکست رؤسائے مکہ کو اٹھانی پڑی اس کے نتیجہ میں وہ آگ میں جل رہے تھے۔انہوں نے قسمیں کھائیں کہ بدلہ لیں گے وغیرہ وغیرہ لمبی داستان ہے۔بہر حال انہوں نے بڑی تیاریاں کیں بڑے ہتھیا را کٹھے کئے اور بڑے غصے میں بھرے ہوئے آئے اپنے مقتولوں کا بدلہ انہوں نے لینا تھا۔تین ہزار تھے حملہ آور جو اسلام کو مٹانے کے لئے مکہ سے چلے تھے۔ہجری کے تیسرے ۲۰۰ سال اور مارچ کا مہینہ تھا سات سو ان میں زرہ پوش تھے یعنی پوری طرح ہتھیار بند اور دو ٹو ان کے پاس تھے گھوڑے اور تین ہزار ان کے پاس تھے اونٹ اور رسد کا بڑا سامان اور بھاری مقدار میں جنگی سامان ان کے پاس تھا۔تلوار میں اچھی، کمانیں اچھی ، نیزے اچھے وغیرہ وغیرہ اور مدینے سے تین میل کے فاصلے پر اُحد کی چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں ہیں وہاں یہ خیمہ زن ہوئے۔