خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 200
خطبات ناصر جلد هشتم ۲۰۰ خطبہ جمعہ یکم جون ۱۹۷۹ء کیا وہیں سے وہ فساد کے شعلے پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے جس پر اسلامی تعلیم ٹھنڈا پانی چھڑکتی اور ان شعلوں کو بجھا دیتی ہے۔باہمی تعلقات جو ہیں جہاں سے پیار کے سوتے بھی بہہ نکلتے ہیں اور جہاں سے فساد کے شعلے بھی بھڑکتے نظر آتے جیسا کہ میں نے ابھی بتا یا وہ سینکڑوں ہزاروں ہیں مثلاً معاشرتی زندگی۔باہمی رشتے انسان انسان کے تعلقات جو ہیں ان پر جب ہم نگاہ ڈالتے ہیں تو میاں بیوی کے تعلقات ہیں۔پھر اس کے نتیجہ میں اولاد پیدا ہوتی ہے۔ماں باپ اور بچوں کے باہمی تعلقات ہیں۔بھائی بھائی اور بہن بہن کے باہمی تعلقات ہیں۔پھر رشتے داروں کے ساتھ رشتے داری کے تعلقات ہیں پھر ہمسائے کے ساتھ ہمسائیگی کے تعلقات ہیں۔پھر شہر میں بسنے والوں کے ساتھ شہری کی حیثیت سے تعلقات قائم ہوتے ہیں۔پھر اہل ملک کے ساتھ تعلقات ہیں۔پھر دنیا میں بسنے والے انسان کا انسان سے تعلق ہے۔پھر کائنات سے تعلق خدا نے پیدا کر دیا انسان کا سَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّبُوتِ وَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ (الجاثية: ۱۴) کہہ کر۔یہ ایک لمبا مضمون ہے جس کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے مختلف پہلو میں بیان کروں گا مختلف خطبات میں۔باہمی تعلقات میں ایک تعلق ہے ان لوگوں کے ساتھ جو دشمنی کرنے والے ہیں۔دشمن سے بھی ایک تعلق پیدا ہوتا ہے۔دشمن کو اپنی دشمنی کے اظہار کے لئے بھی قریب آنا پڑتا ہے۔پہلے تو بہت ہی قریب آنا پڑتا تھا۔تلوار کا وارجو کرنا چاہتا تھا اس کو تین چارفٹ کے فاصلے تک پہنچنا پڑتا تھا اپنے دشمن کے تبھی وار کر سکتا تھا۔اب اس قُرب کی رینج (Range) بڑھ گئی ہے۔توپ کی رینج (Range) اور ایٹم بم لے جانے والے جہازوں کی رینج (Range) کی وجہ سے۔لیکن بہر حال قُرب ہے۔وہ فاصلہ بھی مقرب ہی بتا رہا ہے۔دشمن سے جو تعلق ہے ایک مسلمان کا جو اسلام کی تعلیم پر چلنے والا ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ پر عمل کرنے والا ہے۔اس کی میں آج ایک مثال بیان کروں گا۔بطور تمہید کے میں پہلے یہ بتادوں کہ بعض باتیں ایسی ہیں جو حقائق بیان کرتی ہیں۔اس میں گالی یا سب وشتم کا پہلونہیں ہوتا۔مثلاً خدا تعالیٰ اگر کسی کو کہتا ہے کہ ایسے اعمال کرو گے تو جہنم میں جاؤ گے تو اللہ تعالی گالی تو نہیں دے رہا۔خدا تعالیٰ اسے جہنم کے رستوں سے باز رکھنے کی کوشش کر رہا ہے اپنے انبیاء کے ذریعے ، ان پر جو تعلیم نازل ہوتی ہے اس کے واسطہ سے۔بتوں