خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 191
خطبات ناصر جلد ہشتم ۱۹۱ خطبہ جمعہ ۲۵ رمئی ۱۹۷۹ء کے وقت ) مکہ سے باہر خیمہ زن ہوئے تو ان میں اتنی جرات نہیں تھی، اتنے حالات بدل گئے تھے اس وقت ، اتنا خوف طاری تھا ان کے ذہنوں پر خدا تعالیٰ کی عظمت کا کہ اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اپنی میان سے تلوار نکالتے اور لڑ کر اپنی دشمنی کا فیصلہ کرتے۔بغیر لڑنے کے انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔وہ جانتے تھے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے انقلابی تبدیلیوں کے بعد عرب میں اس قابل بنا دیا ہے کہ ہم مقابلہ نہیں کر سکتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو چاہیں کریں ہمارے ساتھ۔لیکن محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خدا کہتا ہے کہ اے مکہ والو! محمد تمہیں بلا رہے ہیں ان کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ان کی طرف آجاؤ کیونکہ وہ تمہیں زندہ کرنا چاہتے ہیں، مارنا نہیں چاہتے۔تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن ، آپ کی بعثت کا مقصد جو تھا وہ زندہ کرنا تھا، مارنا نہیں تھا۔اگر چاہتے تو ایک مرد، ایک عورت ، ایک بوڑھا، ایک جوان ، ایک بچہ بھی اس دن زندہ نہ رہتا مکہ میں لیکن جو سلوک آپ نے کیا اپنے ان دشمنوں کے ساتھ جو آپ کو مٹا دینے کے لئے ہیں سال تک کوششیں کرتے رہے تھے وہ یہ تھا کہ جاوَلَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ الله لكم (يوسف : ۹۳) میں تم سے کوئی شکوہ نہیں کرتا اور خدا سے یہ دعا کرتا ہوں کہ وہ تمہیں معاف کر دے۔تو ان کے ذہنوں میں (بڑا میں نے سوچا اور ان کی زندگیوں کا مطالعہ کیا دو یقینی باتیں تھیں۔ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی بات بہر حال پوری ہوگی۔دوسرے یہ کہ ہم ان کا مقابلہ خود نہیں کر سکتے دنیوی تدبیر سے۔لیکن تدبیر کرنا ہمارا فرض ہے۔وہ کیا تدبیر باقی رہ جاتی ہے وہ دعا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جو انقلاب عظیم بپا ہو گیا عرب کے باشندوں کی زندگیوں میں۔وحشی تھے اور آداب انسانیت سے بھی نابلد تھے جو وہ بڑے اچھے انسان بن گئے ، خدا رسیدہ انسان بن گئے، با اخلاق انسان بن گئے۔یہ کیوں ہوا کبھی سوچا کسی نے؟ آپ فرماتے ہیں ایک جگہ۔آپ نے کہا ہے کہ یہ اس لئے ہوا ایک شخص راتوں کو اُٹھ کے ان کے لئے تضرع کے ساتھ اور عاجزی کے ساتھ خدا کے حضور دعائیں کرنے والا تھا اور ان