خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 184
خطبات ناصر جلد هشتم ۱۸۴ خطبه جمعه ۱۸ رمئی ۱۹۷۹ء ہیں ، ہمسائیوں کے تعلقات ہیں، قبیلے کے تعلقات ہیں، شہریوں کے جو ایک ہی ملک کے رہنے والے ہیں ان کے آپس کے تعلقات ہیں۔پھر بین الاقوامی تعلقات ہیں ، ہر شعبہ زندگی کے متعلق حکم یہ ہے کہ لڑنا نہیں۔جھگڑے کی فضا پیدا نہیں کرنی۔تمام معاملات کو پیار اور محبت کے ساتھ طے کرو مگر محض فلسفہ اور وعظ اور نصیحت ہی نہیں اسلام۔بلکہ اسلام ہماری زندگیوں میں عملاً ایک انقلابی تبدیلی پیدا کر کے مسلمان کی زندگی میں امن کے حالات پیدا کرتا ہے۔ہر حکم جو دیا اسلام نے وہ امن پیدا کرتا ہے۔وہ سلامتی پیدا کرنے والا ہے۔وہ جھگڑوں کو دور کرنے والا ہے۔وہ فسادات کو مٹانے والا ہے۔اس کی تفصیل لمبی ہے، وسعتیں رکھنے والی ہے۔اسلام کا ہر حکم جھگڑے دور کرتا اور پیار کو پیدا کرتا ہے اور جتنا ہم تفصیل میں جائیں اور اس پر غور کریں، یہ حسین تعلیم ، یہ نہایت ہی اچھی اور روشن تعلیم ابھر کے ہمارے سامنے آتی ہے۔آج میں نے مختصر خطبہ دینے کا ارادہ کیا تھا۔پس یہ بنیادی بات آپ کو جو یہاں بیٹھے ہیں اور آپ کے ذریعہ سے ساری جماعت کو بتانا چاہتا ہوں کہ اسلام نے سارے جھگڑے عملاً مٹادیئے ہیں اور سارے احکام جھگڑے مٹانے والے دیئے اور پھر کہا ان پر عمل کرو ، جھگڑے ختم ہو جا ئیں گے۔جماعت احمدیہ کے ہر فرد کا یہ فرض ہے کہ وہ اسلام کے احکام پر عمل کرے اور ہر قسم کی تلخیوں کو اپنی زندگی اور اپنے ماحول سے مٹانے کی کوشش کرے۔اللہ نے توفیق دی تو انشاء اللہ اس کی تفصیل کے بہت سے پہلو ہیں جو جماعت کے سامنے میں بعد میں رکھوں گا اس وقت اسی پر اکتفا کرنا چاہتا ہوں کہ جھگڑوں کو آپ مٹادیں۔آئندہ میں بتاؤں گا جوں جوں مجھے تو فیق ملتی رہی کہ یہ جو مختلف قسم کے تعلقات ہیں ان کو کس حسین ملاپ میں، بندھن میں جوڑا اور باندھا ہے۔انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی تو فیق عطا کرے کہ ہم دنیا کے لئے اس حسین اور امن والی تعلیم کا نمونہ بنیں اور آپس کی ساری رنجشوں کو دور کر نے والے بن جائیں اسی کی توفیق۔سے۔روزنامه الفضل ربوه ۵ / جولائی ۱۹۷۹ ء صفحہ ۲) 谢谢谢