خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 183
خطبات ناصر جلد ہشتم ۱۸۳ خطبہ جمعہ ۱۸ رمئی ۱۹۷۹ء حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عظیم اُسوہ کی شکل میں مبعوث کیا گیا خطبه جمعه فرموده ۱۸ مئی ۱۹۷۹ء بر مکان صاحبزادہ مرز امنیر احمد صاحب چپ بورڈ فیکٹری۔جہلم تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اسلام کے معنے ہیں امن اور سلامتی اور اسلام اس غرض سے آیا ہے کہ انسانوں میں امن کے حالات اور سلامتی کے حالات پیدا کرے۔اس غرض کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک عظیم اُسوہ کی شکل میں دنیا کی طرف مبعوث کیا گیا اور اس غرض کے لئے سب سے پہلے امت محمدیہ میں امن اور سلامتی کا ماحول پیدا کیا گیا اور اس طرح پر اس اُمت کو نوع انسان کے لئے ایک نمونہ بنایا گیا۔اسلام کہتا ہے کہ آپس میں محبت اور پیار کے ساتھ زندگی گزارو۔سارے لڑائی جھگڑے ختم کر دو۔زندگی کی تلخیاں مٹاڈالو اور امن کی اور اخوت کی اور دوستی کی فضا پیدا کرو۔اسلام نے سارے جھگڑوں کو مٹانے کا حکم بھی دیا اور سارے احکام ایسے اسلام نے دیئے ہیں جن کے نتیجہ میں کوئی جھگڑا نہ پیدا ہو سکتا ہے نہ قائم رہ سکتا ہے۔ہمارے آپس کے باہمی بہت سے تعلقات ہیں۔میاں بیوی کے تعلقات ہیں۔ماں باپ کے تعلقات ہیں، بھائی بہنوں کے تعلقات ہیں ، بہنوں بہنوں اور بھائیوں بھائیوں کے تعلقات