خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 182
خطبات ناصر جلد ہشتم ۱۸۲ خطبہ جمعہ ۱۱ رمئی ۱۹۷۹ء ہے۔ہر دو جہاں کا خالق و مالک اس کے حضور جھک کر دعائیں کر کے ان کے دکھوں کو دور کرنے والے بنو۔جولوگ خدا سے دور جا رہے ہیں دعائیں کرو کہ خدا تعالیٰ کے قرب کی راہیں ان کے اوپر کھلیں اور وہ جو اندھیروں میں بسنے والے ہیں وہ خدا تعالیٰ کے نور کے اندر آ جائیں اور جو مُردہ ہیں وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے طفیل زندہ ہو جائیں اور اسوۂ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہوئے تم بھی خدا سے کہو کہ اے خدا ! جو روحانی مُردے ہیں ان کو زندہ کر۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ عرب کی حالت ایک مردہ قوم کی سی تھی ، وہ زندہ ہو گئی اور کس شان کی زندگی۔زندگی کے ایسے آثار کہ دنیا میں کسی قوم میں زندگی کے وہ آثار نہیں دیکھے گئے۔یہ سب اندھیری راتوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متضرعا نہ دعاؤں کا کرشمہ تھا تو یہ نہ سمجھو تم کہ ہم غریب ہیں، دولت خرچ کر کے انسان کے دکھوں کو کیسے دور کریں۔ہم تھوڑے ہیں۔ہم خدمت کر کے لوگوں کی تکلیفوں کو کیسے دور کریں۔اللہ کا درایک ایسا ڈر ہے جو تمہارے لئے کھلا ہے۔ایک ایسا ڈر ہے جس کے کھلے ہونے کی علامتیں تم اپنی زندگی میں دیکھتے ہو اور محسوس کرتے ہو اور مشاہدہ کرتے ہو۔اس دَر پر حاضری دو۔اس واحد و یگانہ کے حضور جھکو۔اللہ تعالیٰ سے یہ کہو کہ اے خدا! تو رب العالمین۔تُو نے اعلان کیا رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ تُو نے اپنے پیارے کو بھیجا جس کے حق میں تُو نے اعلان کیا۔رَحْمَةٌ لِلعلمین ہے وہ۔تو نے ہمیں اس کی اُمت بنایا۔تو نے کہا كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ہمارے اوپر یہ لیبل لگا دیا۔ہم کمزور، ہم غریب ، ہم دنیا کے دھتکارے ہوئے ہیں۔ہمیں اپنے دروازے سے مت دھتکار اور ہماری دعاؤں کوسن اور نوع انسانی کو تو فیق دے کہ وہ اپنے محسن کو پہچانے اور اس کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے اور اس دنیا کے دکھوں سے نجات حاصل کرے۔اس دنیا کی جنتیں ان کے لئے پیدا ہوں اور مرنے کے بعد کی جنتیں ان کے نصیب میں ہوں اور ہمارے نصیب میں بھی ہوں۔خدا کرے۔آمین روزنامه الفضل ربوه ۵ جولائی ۱۹۷۹ ء صفحه ۳ تا ۵) 谢谢谢