خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 181 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 181

خطبات ناصر جلد هشتم ۱۸۱ خطبہ جمعہ ۱۱ارمئی ۱۹۷۹ء برداشت کی۔خدا نے ان کو مرنے نہیں دیا لیکن بھوک کی انتہائی تکلیف کے امتحان میں سے گزار کر ان کا امتحان لیا۔اس قدر کہ ایک بزرگ صحابی کہتے ہیں کہ ہماری یہ حالت تھی کہ رات کے اندھیرے میں ایک رات میری بھوتی کسی ایسی چیز پر پڑی کہ میں نے محسوس کیا کہ یہ کوئی نرم چیز ہے۔میں جھکا۔میں نے اٹھایا۔میں نے کھالیا اسے اور مجھے آج تک نہیں معلوم کہ وہ تھی کیا چیز جو میں نے اٹھائی اور کھالی۔اس قدر شدید دکھ بھو کے رہنے کا اور ایذا آپ کے دشمنوں نے پہنچائی لیکن خدا تعالیٰ نے اپنے نبی کی ، اپنے محبوب ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو ظاہر کرنے کے لئے ایسے سامان پیدا کئے کہ ہجرت کے بعد جب آپ مدینہ میں تھے مکہ میں قحط پڑا اور وہی مخالف جو مسلمانوں کو بھوکا مارنے کے منصوبے بناتے تھے، انہوں نے دیکھا کہ الہی منصوبہ ان کو گھیرے میں لے رہا ہے اور بھوک سے مرنے کے سامان ان کے لئے پیدا ہورہے ہیں۔انہوں نے پیغام بھیجا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہ کیا اپنے بھائیوں کو بھوکا مارنے دو گے؟ اور جس نے اڑھائی سال تک بھوک کی تکلیف اٹھائی تھی اس نے ایک منٹ کی تاخیر نہیں کی اور پیغام سنتے ہی حکم دے دیا کہ ان کے لئے سامان بھیجنے کا انتظام کرو اور ان کے لئے غذا کے بھجوانے کا انتظام کیا۔کچھ وقت لگا ہوگا بھجوانے میں۔وہ تو درست ہے لیکن اسی وقت سنتے ہی آپ نے کہا کہ انتظام کیا جائے ، ان کو بھوکا نہیں رہنے دیں گے۔قرآن کریم کی تعلیم مسلمان کو کوئی ایک سبق بھی یہ نہیں دیتی کہ کسی سے دشمنی کرنی ہے، کسی کو ایذاء پہنچانی ہے، کسی کو دکھ دینا ہے، کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانی ہے یاد کھ سے اُسے بچانے کی کوشش نہیں کرنی۔شروع سے لے کر آخر تک اتنی پیاری تعلیم ہے یہ۔اتنی عظیم اور اتنی حسین ہے یہ تعليم كُنتُم خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ اس لئے میں اپنے چھوٹے بچوں ، نو جوانوں، خدام اور بھائیوں کو اور بہنوں کو کہتا ہوں کہ یہ اسلامی تعلیم ہے، اپنی زندگیاں اس کے مطابق بناؤ۔ساری دنیا سمجھے کہ وہ تمہاری دشمن ہے لیکن تم کبھی یہ نہ سمجھو کہ کوئی ایک انسان بھی ایسا ہے جس کے تم دشمن ہو۔تم کسی کے دشمن نہیں ہو۔تم ہر ایک کے خیر خواہ ہو۔تم ان کے دکھوں کو دور کر نے والے ہو۔قربانیاں دے کر ( مالی، وقتی) اور اگر تمہارے پاس کچھ بھی نہ ہو نہ مال، نہ دولت تب بھی جو سب سے بڑا