خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 180 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 180

خطبات ناصر جلد ہشتم ۱۸۰ خطبہ جمعہ ۱۱ رمئی ۱۹۷۹ء ہے اور کوئی حکم ایسا نہیں ہے جو مسلم اور غیر مسلم میں فرق کرنے والا ہو۔جس طرح خدا تعالیٰ کی ربوبیت نے انسان اور غیر انسان میں اور انسانوں میں سے مسلم اور غیر مسلم میں اور مؤحد اور مشرک میں فرق نہیں کیا اور اس کی رحمانیت کے جلوے سب پر یکساں ظاہر ہوتے رہے، ہوتے ہیں، ہوتے رہیں گے۔جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ آپ کے دل میں ایک تڑپ تھی کہ لوگوں کی بھلائی کے سامان پیدا ہوں۔آپ کے ذہن میں یہ خیال بھی پیدا نہیں ہوا کبھی کہ لوگوں کو دکھ پہنچانے کا کوئی سامان پیدا کیا جائے۔تاریخ انسانی کے سارے اوراق ہر ورق کا ہر لفظ اس بات پر گواہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں کسی انسان کی دشمنی نہیں پیدا ہوئی اور اس پر قرآن کریم کی یہ آیت گواہ ہے۔لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء: ۴) ایک گروہ ہے جو مومن نہیں منکر ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا انکار کر رہا ہے۔جو اس تعلیم کو نہیں مانتا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے جو خدا سے منہ پھیر رہا ہے۔جو عالمین کا پیدا کرنے والا اور جس کی معرفت کے دروازے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے کھولے گئے۔اَلا يَكُونُوامُؤْمِنِينَ ایمان نہ لانے والا یہ گروہ ہے لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں یہ تڑپ ہے کہ یہ ایمان کیوں نہیں لاتے اور ان کی فکر میں تو اپنی جان ہلاک کر رہا ہے اوراق تاریخ میں کسی کے خلاف غصہ یا دشمنی کا کوئی ایک واقعہ درج نہیں۔مجھے بڑا لطف آتا ہے اس مثال سے کہ جب آپ مکہ میں تھے شعب ابی طالب میں کفار مکہ نے قریباً اڑ ہائی سال ( کم سے کم زمانہ اڑھائی سال کا تاریخ نے کہا ہے ) اس وقت کی اُمت مسلمہ کو (اس وقت وہی تھے ساری دنیا کے مسلمان جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد ا کٹھے ہوئے تھے ان کو وہاں ) بند کر دیا۔ان کے دروازے چند دڑے تھے جو اس وادی میں جانے والے تھے وہاں پہرے لگا دیئے۔اڑھائی سال تک پوری کوشش کی کہ ان کو بھوکوں ماریں۔خدا تعالیٰ نے یہ انتظام تو کیا کہ وہ بھوکے نہ مریں لیکن خدا تعالیٰ نے اس عظیم قوم متبعین رسول خدا کی شان ظاہر کرنے کے لئے یہ انتظام نہیں کیا کہ وہ سیر ہو جایا کریں۔بھوک کی انتہائی تکلیف انہوں نے