خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 172 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 172

خطبات ناصر جلد هشتم ۱۷۲ خطبہ جمعہ ۱/۲۷ پریل ۱۹۷۹ء کے جو طریق اسی کے بتائے ہوئے ہیں ان کے اوپر ہم چلیں اور اس دنیا میں پیار کے جو صحیح تقاضے سمجھے جاتے ہیں ، خدا تعالیٰ اسی طرح پیار کا اظہار کرتا ہے۔مثلاً جب ایک انسان دوسرے سے پیار کرے اور چاہے کہ وہ دوسری ہستی مجھ سے بھی پیار کرے مجھ سے ہمکلام ہو، مجھ سے باتیں کرے۔قرآن کریم نے یہ دروازے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل امت مسلمہ کے لئے کھلے رکھے ہیں۔دوست خدا بنتا ہے۔پیار کرتا ہے اور یہ تو مہربانی ہے خدا کی کہ اپنے عاجز بندوں سے وہ پیار کرتا اور اس سے دوستانہ سلوک روارکھتا ہے اور اس مہربانی کے نتیجہ میں وہ ان کی مدد کو آتا ہے ان کی نصرت کرتا ہے وہ ان کے دکھوں کو دور کرتا ہے وہ ان کو جب آزماتا ہے تو ان کی شان کو بلند کرنے کے لئے وہ آزمائش ہوتی ہے۔جب وہ امتحان میں پاس ہوتے ہیں تو ان کو اس قدر انعام ملتا ہے کہ دنیا کا دماغ بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتا۔تو ہر لحاظ سے وہ اپنے پیار کا اظہار کرتا ہے وہ کہتا ہے میں تمہارے ساتھ ہوں اس واسطے کسی سے تم نے گھبرانا نہیں کسی کی طرف تم نے ہاتھ نہیں بڑھانا۔مجھ سے مانگو میں تمہیں دوں گا۔وہ کہتا ہے کہ جب میں تمہیں آزماؤں تو گلے شکوے نہیں کرنے میں نے تمہارا امتحان لینا ہے کہ تمہارا یہ دعویٰ کہ تم مجھ سے پیار کرتے ہو اس دعوئی میں تم سچے ہو یا نہیں۔تو پہلا سبق اے میرے عزیز بچو ہمیں قرآن کریم نے محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے یہ دیا جو آج حضرت مہدی علیہ السلام نے ہمارے سامنے دہرایا اور تاکید کی اس بات کی کہ اس سبق کو کبھی اپنی زندگی کے ایک لحظہ کے لئے بھی بھولنا مت وہ یہ ہے کہ خدائے واحد و یگانہ پر ویسا ایمان رکھو جیسا ایمان قرآن عظیم کی شریعت ہمیں کہتی ہے کہ رکھو۔قرآن کریم نے کھول کے بیان کیا۔آپ کے اسباق کے اندر ممکن ہے تفاصیل آئیں اس کی ممکن ہے نہ آئیں۔بعض باتیں میں نے بیان کر دیں بعض آپ سیکھتے رہیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب پڑھیں گے آپ کے سامنے آجائیں گی۔اسلام کا دوسرا سبق جو ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دیا، اس زمانے میں دنیا