خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 157 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 157

خطبات ناصر جلد هشتم ۱۵۷ خطبه جمعه ۲۰ ۱۷ پریل ۱۹۷۹ء نقصان کرے گا۔کسی اور کا نقصان نہیں کرے گا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت سے انکار پہلی نسل سے لے کر قیامت تک کی انسانی نسلوں تک جو ہے اس کا نقصان منکرین کو پہنچے گا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو، آپ کی تعلیم کو، آپ کی بشارتوں کو ، آپ کے ماننے والوں کو ، خدا تعالیٰ کی جو رحمتیں آپ کے ماننے والوں پر آپ کے طفیل نازل ہو رہی ہیں ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔جو اندھا ہوگا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانات کو دیکھ نہیں سکے گا وہ اپنا نقصان کرے گا۔ایک اور بات یہ کہ میں تم پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا گیا ، محافظ نہیں ہوں ، رسول ہوں۔ایک پیغام خدا نے میرے ذریعہ سے تم تک پہنچانا چاہا میں نے تمہیں پہنچادیا۔خدا تعالیٰ نے اس تعلیم کے لئے دنیا کے سامنے ایک بہترین نمونہ قائم کرنا چاہا اور خدا نے توفیق دی مجھے کہ میں تمہارے لئے اُسوہ حسنہ بن جاؤں۔ایک حسین تعلیم ایک حسین وجود میں عملی رنگ میں تمہیں نظر آتی ہے۔نگہبان اور محافظ نہیں ہوں رسول ہوں اور اُسوہ ہوں۔میری تعلیم کو دیکھو، میرے اعمال کو دیکھو۔میری اس تعلیم کے نتیجہ میں انسان کو جو خدا تعالیٰ کے نعماء ملتے ہیں ان کو دیکھو۔اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (آل عمران :۳۲) میرے اُسوہ پر چل کر خدا تعالیٰ کا جو پیار تمہیں حاصل ہوتا ہے، اسے دیکھو۔ان چیزوں کو دیکھو اور اپنے خدائے واحد و یگانہ جو بڑا رحم کرنے والا 79 روو اور رپ کریم ہے کی طرف واپس لوٹ کے آؤ۔دوری کی راہوں کو اختیار نہ کرو۔ایک اور بات ہمیں یہ نظر آتی ہے کہ ظاہر ہونے والے بینہ اور بصائر ہزاروں نشان دیکھتے اور ان کو جھٹلاتے ہیں اور ہزاروں نشانوں کو جھٹلانے کے بعد پھر قسمیں بھی کھاتے ہیں کہ اگر کوئی نشان آجائے تو ہم مان لیں گے مگر نشان ہماری مرضی کا ہو۔ایک دفعہ ایک گاؤں میں ایک ان پڑھ سادیہاتی تھا اس نے میرے ساتھ خود ہی باتیں شروع کر دیں۔وہ مجھے کہنے لگا کہ ہم تو احمدیت کی صداقت پر یہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی زندگی کی بات ہے ) تب ایمان لائیں گے کہ آپ کے حضرت صاحب ہمارے یہاں آئیں اور ہمارے مینار کے اوپر آم کی گٹھلی لگا ئیں اور وہ اسی وقت ایک پیر بن جائے اور اسے بُور آئے