خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 156 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 156

خطبات ناصر جلد ہشتم ۱۵۶ خطبه جمعه ۱۷۲۰ پریل ۱۹۷۹ء دنیا کی طاقت نہیں جو اس کو اس کی مرضی کرنے سے روک سکے اور صاحب حکمت ہے اور حکم صادر کرنا اسی کا منصب ہے جو اپنا حکم جاری بھی کر سکے اور حکمت سے کام لینے والا ہو۔اور ساتویں چیز ہمیں ان آیات سے یہ پتا لگتی ہے کہ تم جلدی کر رہے ہو شاید اس خیال سے کہ کبھی حق و صداقت کو خدا تعالیٰ کھولے گا نہیں۔لیکن ایک وقت آئے گا کہ وہ خود يَقُضُ الْحَقِّ حق اور صداقت کو کھولے گا لیکن اپنے وقت پر کھولے گا۔نہ میرے کہنے سے کھولے گا نہ تمہارے واویلا کرنے سے کھولے گا۔وَهُوَ خَيْرُ الْفَصِلِینَ۔آٹھویں بات یہ ہے کہ وہ حق و حکمت کا سرچشمہ ہے۔وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے اور اس لئے وہ ہمارے درمیان بہترین فیصلہ کرے گا۔جیسا کہ بہترین فیصلہ اس نے کیا پہلے دن سے لے کر آج کے دن تک اور آج کے دن سے لے کر قیامت تک کرتا چلا جائے گا۔خَيْرُ الْفَصِلِينَ اس میں ہمیں بتایا گیا کہ کسی بھی نسل انسانی کو خدا تعالیٰ سے اس قسم کے مطالبے نہیں کرنے چاہئیں اور لرزاں ترساں اپنی زندگی کے دن گزارنے چاہئیں۔خدا تعالیٰ جب چاہے گا جو چاہے گا جس رنگ میں چاہے گا اپنے حکم کو جاری کرے گا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے مخالفین کے درمیان وہ جب فیصلہ کرے گا تو اس کا جو فیصلہ ہوگا وہ خَیرُ الفصلِینَ کا فیصلہ ہوگا۔وہ بہترین فیصلہ ہوگا وہ نوع انسانی کی بھلائی کا فیصلہ ہوگا۔وہ ایک ایسی ہستی کا فیصلہ نہیں ہوگا جو اپنے علم میں کمزور جو اپنی طاقت میں کمزور، جو اپنی حکمت میں کمزور ، جو اپنی رحمت میں کمزور بلکہ اس عزّ و جلّ کا ہوگا جو رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ (الاعراف: ۱۵۷) کہنے والا ہے جس نے خَيْرُ الْفَصِلِينَ اپنے متعلق کہا۔وہ اس کا ہو گا جس نے کہا کہ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات: ۵۷) که اصل غرض تو تمہاری پیدائش کی یہ ہے کہ تم میرے بندے بنو۔میرے ساتھ زندہ تعلق قائم کرو۔نویں بات ( دوسری آیت سے ) ہمیں یہ پتالگتی ہے کہ خدا جانے تمہیں کیا ہو گیا ہے۔بصائر آچکے آنکھیں کھولنے والے روشن نشان ظاہر ہوئے اور تمہیں نظر نہیں آرہے۔دسویں بات ہمیں یہ پتالگتی ہے کہ ان روشن نشانوں کو شناخت کرنے میں تمہارا اپنا فائدہ ہے کسی اور کا فائدہ نہیں اور اگر تم آنکھیں رکھتے ہوئے اندھے ہو جاؤ تو جو اندھا ہوگا وہ خود اپنا