خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 145
خطبات ناصر جلد هشتم ۱۴۵ خطبه جمعه ۱۳ را پریل ۱۹۷۹ء ادا ئیگی ہوگی تو وہ ثواب ہے اور اگر نہیں ادا ئیگی کرے گا تو وہ سُوءًا ہے، بدی ہے۔ایک اپنے نفس کے حقوق کی ادائیگی ہے۔اپنے نفس کے حقوق کو ادا کرنا، اس آیت سے یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے، اتنا ہی ضروری ہے جتنا غیروں کے حقوق کی ادائیگی اپنے نفس کے ساتھ۔پھر ایک دائرہ آجاتا ہے خاندان کا۔جو حقوق خدا تعالیٰ نے کسی کے رشتہ داروں کے قائم کئے ہیں اگر ذمہ وار آدمی وہ حقوق ادا نہ کرے صرف اس لئے کہ اس کے اوپر کوئی اعتراض کرنے والا یہ اعتراض کر دے گا کہ چونکہ تمہارے ساتھ عزیز داری ہے اس لئے تم اس کی رعایت کر دو گے تو اسلام اس کو گناہ سمجھتا ہے اور حقوق ، اس شخص کے حق کو قائم کرنا اور اس کو ادا کرنا جو خدا تعالیٰ نے قائم کیا ہے اس کو ثواب اور جنت کا دروازہ کھولنے والا ایک عملِ صالح سمجھتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ ہے۔آپ کے ایک عزیز کا ایک دوسرے مسلمان کے ساتھ چشمے کا پانی تھا بہر حال ایک کنارہ تھا قدرتی ، اس پانی کے اوپر ہوا جھگڑا۔آپ کے عزیز کی زمین او پر تھی پانی کی طرف۔دوسرے مسلمان کی نیچے تھی۔وہ آیا آپ کے پاس۔آپ نے کہا اپنے عزیز کو کہ کھیتوں کو اپنے پانی دو بے شک لیکن اس کے لئے بھی چھوڑ دیا کرو پانی۔وہ کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ اس لئے کہہ رہے ہیں کہ اس کی رشتے داری ہے آپ کے ساتھ۔آپ تو احسان کر رہے تھے یعنی جو حق تھا اس سے زائد اس کو دے رہے تھے جب اس نے یہ کہا تو پھر آپ نے کہا الفاظ میں یا عمل سے کہ اچھا تم اسلامی تعلیم کے مطابق فیصلہ کروانا چاہتے ہو تو وہ یہ ہے کہ اپنے عزیز کو کہا تمہاری زمین اوپر ہے تم اپنے کھیت کو پانی پلاؤ۔پھر پانی پلاؤ ، پھر پانی پلا ؤ اور پوری طرح جب سیراب ہو جائے پھر پانی جو بچ جائے وہ اس کو چھوڑ دو ، آپ ہی اس کے پاس پہنچ جائے گا۔تو نفس کے حقوق ہوں یا غیر کے حقوق ہوں، عزیز رشتے دار کے حقوق ہوں یا غیر مسلم کے حقوق ہوں حقوق کی ادائیگی تو اس لئے کرنی ہے کہ خدا کہتا ہے کہ میں نے یہ حق قائم کیا اس حق کو قائم کرو۔اس لئے ہم نے ادا نہیں کرنی کہ ہم چاہتے ہیں ہم کسی پہ احسان کریں یا ہم چاہتے ہیں کہ کسی پہ احسان نہ کریں۔جو حق خدا نے قائم کر دیا، مثلاً جو حق خدا نے ربُّ العالمین کی حیثیت سے قائم کر دیا کوئی دنیا میں انسان نہیں پیدا ہوا کہ جسے خدا نے یہ حق دیا ہو کہ وہ ان حقوق کو پامال کرے