خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 144
خطبات ناصر جلد هشتم ۱۴۴ خطبه جمعه ۱۳ ۱۷ پریل ۱۹۷۹ء نیچے ڈھانپ دیا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس سلسلے میں جو مختلف قویٰ کے ساتھ مختلف انسانوں کو پیدا کیا آپ فرماتے ہیں۔مثال آپ نے یہ دی ہے کہ طبائع انسانی جواہر کانی کی طرح مختلف الاقسام ہیں۔کان معدنیات سے جو چیزیں نکلتی ہیں نا وہ مختلف ہیں ، ان کی طرح انسانی طبیعتیں بھی مختلف ہیں۔یہ میں نے اب میرے الفاظ ہیں خلاصہ کیا ہے میں نے ، بعض چاندی کی طرح روشن ، بعض گندھک کی طرح بد بودار اور جلد بھڑ کنے والی اور جوش میں آنے والی ، بعض پارے کی طرح بے ثبات اور بے قرار، بعض لوہے کی طرح سخت اور کثیف اور میں ساتھ یہ مثال بھی دیتا ہوں کہ بعض ہیرے کی طرح روحانی شعاعوں سے جگمگانے والی مختلف قسمیں ہیں اور اس کے بغیر انسانی تمدن اپنے عروج کو ارتقائی ادوار میں سے گذرتا ہوا پہنچ نہیں سکتا تھا۔کثیف کاموں کے لئے کثیف طبیعتوں کی ضرورت ہے لطیف کاموں کے لئے لطیف طبیعتوں کی ضرورت ہے۔بعض ایسے کام ہیں مثلاً جو، اب تو کچھ انسان نے سہولتیں اور قسم کی پیدا کر لیں لیکن ایک خاص وقت میں غسل خانوں وغیرہ کی گلیوں کی نالیوں کی صفائی بعض خاص قسم کی طبیعتیں ہی کر سکتی تھیں ہر آدمی کر ہی نہیں سکتا تھا۔ایک لطیف طبیعت کا آدمی گزرتے ہوئے ناک پر رومال ڈال کے گذرتا تھا ایک دوسرا آدمی اپنا ہاتھ بیچ میں ڈال کے نالی کو اس کو صفا کر رہا ہے۔طبیعتوں طبیعتوں میں بڑا فرق ہے۔بے شمار قسمیں بن جاتی ہیں ان کو ہم گن نہیں سکتے لیکن ایک حقیقت اپنی جگہ محکم اور ثابت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کوئی کمزوری انسان کی ایسی نہیں کہ اگر اس کے نتیجہ میں وہ خدا کو ناراض کرنے والا ہو جائے تو اس پر تو بہ کا دروازہ بند ہو اور خدا تعالیٰ کی مغفرت اور رحم سے ہمیشہ کے لئے اسے محروم کر دیا جائے۔نہیں بلکہ خدا تعالیٰ میں جو مغفرت اور رحم کی صفت ہے غفور اور رحیم ہونا اس کا ، یہ ازلی ابدی صفت ہے اور ایک فرد واحد ، میں نے تو ہزار دفعہ کہا تھا اگر لاکھ دفعہ کروڑ دفعہ بھی غلطی کرتا اور کروڑ دفعہ اپنے رب کریم کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو بہ اور ندامت کے جذبات کے ساتھ تو ایک کروڑ دفعہ اس پر خدائے ربّ کریم کا دروازہ کھولا جائے گا۔اس آیت میں ایک لوگوں کے حقوق کی ادئیگی کا اشارہ ہے یا عدم ادائیگی کی طرف یعنی