خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 137 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 137

خطبات ناصر جلد ہشتم ۱۳۷ خطبہ جمعہ ۶ را پریل ۱۹۷۹ء اصول ہے جس نے يُرِيدُ اللهُ اَنْ يُخَفِّفَ عَنْكُمْ کے ماتحت ہمارے لئے سہولت پیدا کی۔یہی حالت عبادات کی ہے پہلے تو حقوق اللہ اور حقوق العباد میں روحانی ترقیات کو تقسیم کر دیا۔حقوق العباد میں سینکڑوں باتیں آتی ہیں۔جذبات کا خیال رکھنا ہے، ان کی صحتوں کا خیال رکھنا ہے، ان کی بھوک کا خیال رکھنا ہے، ان کے کپڑوں کی ضرورت پوری کرنی ہے کہ جو عنا صر ہیں وہ ان کو دکھ نہ پہنچائیں ان کی تعلیم کا خیال رکھنا ہے، ان کی کفو میں شادیاں ہونے کا خیال رکھنا ہے۔گنتے چلے جائیں سینکڑوں حکم ہیں اور سب میں ہر جگہ جب آپ دیکھیں گے وہ تو ازن آجاتا ہے۔ایک تو پہلے حقوق اللہ اور حقوق العباد میں توازن کر دیا۔یہ کہا کہ تم حقوق اللہ کی ادائیگی میں اتنے محو نہ ہو کہ حقوق العباد کو بھول جاؤ۔یہی توازن کا نام ہے نا توازن اسی کا نام ہے اور یہ کہا کہ تم حقوق العباد کی ادائیگی میں اتنے محو نہ ہو کہ حقوق اللہ کو بھول جاؤ۔دونوں کے درمیان ایک توازن پیدا کر دیا۔بڑی تفصیل یہ مضمون خود یہ جو ایک اصول ہے بڑی تفصیل چاہتا ہے۔میں نے آپ کے سامنے کھانے کی ایک مثال پیدا کی اور ساتھ آپ کو بعض روحانی باتوں کی طرف بھی توجہ دلا دی۔اچھا اسی میں یہ جو اصول توازن ہے اس میں مثلاً صدقہ خیرات ہے، ایک تو ساتھ نا، فرض۔اس میں جب ہم نوافل میں آگئے تو نوافل میں توازن رکھو قائم۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اپنے اموال کو نیکیوں میں اس طرح خرچ نہ کرو کہ تمہاری اولاد کو بھیک مانگ کر روٹی کھانی پڑے۔توازن قائم کر دیا نا۔اور چوتھا اصول سہولت جو ہمیں اسلام میں نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ اگر چہ امتدادِ زمانہ کے لحاظ سے دار الامتحان اور دار الابتلا کی زندگی انعام پانے والی اور اس کا نتیجہ حاصل کر کے زندگی جو انسان گزارے گا ان کے امتداد زمانہ کے لحاظ سے کوئی نسبت ہی نہیں۔اس دنیا کی زندگی ہیں سال کی ، تیس سال کی، پچاس سال کی ، ساٹھ سال کی ، اسی سال کی ،سوسال کی سو پلس ، کچھ اور سال بیچ میں شامل ہو جائیں لیکن جو مرنے کے بعد کی زندگی ہے جنت کی زندگی ، خدا تعالیٰ اپنے فضل سے ہم سب کو اپنی رضا کی جنتوں میں لے کے جائے ، وہ زمانہ اتنا لمبا اور وہ جزا اتنی ہے کہ اس کو غیر محدود کہنا غلط نہیں ہوگا، تو محدود اعمال ہیں ایک طرف پڑے ہوئے دارالا بتلا میں اور