خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 125
خطبات ناصر جلد ہشتم ۱۲۵ خطبه جمعه ۳۰ مارچ ۱۹۷۹ء ایسا نشان نازل فرما دیتے کہ اس کے سامنے ان کی گردنیں جھکنے پر مجبور ہو جاتیں اور اس معنی کی تائید اس فرمان سے بھی ہوتی ہے کہ ہدایت گمراہی سے الگ ہو چکی ہے (جو اسی آیت میں لا إكْرَاةَ في الدِّينِ کے آگے ہے قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَی اس کی طرف اس کے معنی کر رہے ہیں ) اور اس معنی کی تائید اس فرمان سے بھی ہوتی ہے کہ اس کے بعد ہے ( لا إكراه في الدِّينِ کے بعد ہے کہ ہدایت گمراہی سے الگ ہو چکی ہے یعنی اس کے دلائل ظاہر ہو چکے ہیں اور اس کے بعد ان کو ایمان کی طرف لانے کے لئے کوئی طریق باقی نہیں رہا۔(یعنی ہر وہ طریق جو کسی کو Convince کرنے کے لئے جو کسی کو سمجھانے کے لئے جو کسی پر ہدایت کھولنے کے لئے ممکن تھا وہ طریق اختیار کیا گیا وہ دلائل دے دیئے گئے معجزات دکھا دیئے گئے ) اور یہ جائز نہیں ،کوئی طریق باقی نہیں رہا سوائے جبر کے اور یہ جائز نہیں کیونکہ یہ ذمہ داری کے خلاف ہے ( کہ ہر آدمی پہ جو ذمہ واری ہے کہ اپنی مرضی سے کرے یہ اس کے خلاف ہے جو بنیادی۔پہلے میں نے بتایا تھا کہ یہ جو انسان کی پیدائش کا منصوبہ باری ہے اس کے خلاف ہے )۔پھر یہ لکھتے ہیں کہ لا إِكْرَاةَ في الدِّينِ کا بعض کے نزدیک یہ مطلب بھی ہے جو شخص جنگ کے بعد دین میں داخل ہوا ہو اس کے متعلق یہ نہ کہو کہ وہ مجبور ہو کر دین میں داخل ہوا ہے۔“ اسلام جب آیا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظاہری دنیوی کمزور حالت میں رہے لمبا عرصہ مکی زندگی میں، تیرہ سال۔پھر مدینے ہجرت کر کے تشریف لے گئے۔پھر وہاں حملہ آور ہوئے رؤسائے مکہ اور انہوں نے سارے عرب کو اپنے ساتھ ملا یا اور یہ فیصلہ کیا کہ اسلام کو دنیا سے مٹا دیں گے اس وقت تو وہی چند مسلمان تھے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہو چکے تھے، تو دفاعی جنگیں اسلام کو لڑنی پڑیں۔دفاعی جنگیں بھی لڑیں لیکن جنگ کی بعض شکلیں معجزانہ صورتیں بھی اختیار کر جاتی ہیں عقلمند آدمی کے لئے مثلاً بدر میں تین سو کچھ صحابہ کا نہتے ، نہ کپڑے ٹھیک نہ ہر ایک کے پاس جوتا بھی تھا اور اس کے مقابلے میں بڑے کتر وفر کے ساتھ رؤوسائے مکہ حملہ آور ہوئے تھے لیکن ان کا سر وہاں کٹ گیا اور شکست کھائی اور وہ واپس آئے اس وقت بہتوں نے