خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 122 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 122

خطبات ناصر جلد ہشتم ۱۲۲ خطبه جمعه ۳۰ مارچ ۱۹۷۹ء سے وہ کراہت رکھنے والے ہیں۔یہ ہے ان کی کیفیت ان آیات میں بتائی گئی۔ان کے متعلق کہا گیا ہے کہ لا اکراہ فی الدین دین کے معاملہ میں ایسے لوگوں کو جبر اتم مسلمان نہیں بنا سکتے جبر اتم نیکیاں نہیں کروا سکتے کیونکہ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَى دلائل کے ساتھ اور بینات کے ساتھ حقیقت کو واضح کر دیا گیا اور کھول کر بیان کر دیا گیا ہے۔اور پھر اللہ تعالیٰ سورۃ یونس میں فرماتا ہے۔وکو شَاءَ رَبُّكَ لَأمَنَ مَنْ فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا (يونس:١٠ ) اگر جبر کرنا ہوتا اگر جبر کو جائز رکھنا ا(یونس:۱۰۰) ہوتا تو انسان پر کیوں چھوڑا جاتا جبر، خدا تعالیٰ خود جبر کرتا۔أَفَأَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (يونس: ۱۰۰) اور اگر اللہ ہدایت کے معاملہ میں اپنی ہی مشیت کو نافذ کرتا تو جس قدر لوگ زمین پر موجود ہیں وہ سب کے سب ایمان لے آتے۔پس جب خدا تعالیٰ مجبور نہیں کرتا تو کیا تو لوگوں کو ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم مخاطب ہیں ) مجبور کرے گا وہ مومن بن جائیں یعنی جن کے دلوں میں حق سے اتنی کراہت جو کفر کے لئے اس قدر شرح صدر رکھتے ہیں وہ زبر دستی تو ان کے دل نہیں بدلے جا سکتے نہ مَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا کی جو کیفیت ہے وہ دور کی جاسکتی ہے۔نہ یہ جبراً اکراہ سے کراہت دور نہیں کی جاسکتی۔اس کو دور کرنے کے لئے بینات اور دلائل ہیں جو خدا تعالیٰ نے بڑی کثرت کے ساتھ اسلام کے حق میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیئے۔دلائل قرآنی جو ہیں وہ اتنی وسعت ہے ان میں کہ قیامت تک خدا تعالیٰ کے اس کلام سے ایک کے بعد دوسرا، ایک کے بعد دوسرا، روشن ستارہ نکلتا چلا آتا ہے انسان کی ہدایت کے لئے۔اور علوم کے میدانوں میں عقلی علوم کے میدانوں میں ، روحانی علوم کے میدانوں میں ایک روشنی جو ہے وہ پیدا ہوتی چلی جارہی ہے اور قرآن کریم کی ہر نئی تفسیر جو ہر نئے زمانہ کی ضروریات کو پورا کرنے والی ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو ثابت کرنے والی اور آپ کی شان کو قائم رکھنے والی ہے اور خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت اور آسمانی نشانات جس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دنیا پر ظاہر ہوئے اسی طرح یہ سلسلہ قیامت تک ممتد ہے اور خدا تعالیٰ کے نیک بندے اُمت محمدیہ میں ایک ایک وقت میں بعض دفعہ لاکھوں کی تعداد میں مختلف خطوں میں پیدا ہوئے جنہوں نے خدا تعالیٰ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل آپ کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں اور آپ کی