خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 101 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 101

خطبات ناصر جلد هشتم 1+1 خطبہ جمعہ ۱۶ / مارچ ۱۹۷۹ء بطون ہیں اس کے اور مختلف تفسیریں کی ہیں، اس Context میں اس سلسلے میں جو میں بات کر رہا ہوں اس کے متعلق میں یہ بتاؤں گا کہ آپ نے بنیادی طور پر تو یہ کہا کہ جب ہر چیز خدا نے خادم بنائی تو ہر چیز سے زیادہ سے زیادہ خدمت لینا ہمارا کام ہے۔دوسرے یہ کہ کسی چیز کو جو ہماری خادم ہے اس کو ضائع کر دینا ناشکری اور گناہ ہے اور اس لئے آپ نے فرما یا اپنی رکابی میں اتنا سالن ڈالو جتنا ختم کرلو۔ایک لقمہ کھانے کا ضائع کرنے کی محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اپنی اُمت کو اجازت نہیں دی۔قرآن کریم کے اسی حکم کے ماتحت یا اس اعلان کے مطابق کہ سحر لكُم مَّا فِي السَّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ اگر ہم اس کا خیال رکھیں کہ کھانا ہمارا ضائع نہ ہو تو جو لقمے بچیں گے وہ ان کے ہمارے ان بھائیوں کے کام آئیں گے جن کے منہ میں لقمہ جانے کے لئے کوئی لقمہ موجود نہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر چیز تمہارے فائدے کے لئے تو پیدا کی گئی ہے مگر فائدہ حاصل کرنے میں استعمال میں اسراف نہیں کرنا جتنی ضرورت ہے اس سے زیادہ نہیں کرنا۔جتنا کھانے کی ضرورت ہے اس سے زیادہ کھانا نہیں اور اس لئے فرمایا کہ بھوک ہو تو کھانا شروع کرو اور ابھی بھوک محسوس کر رہے ہو تو کھانا چھوڑ دو۔یہ تو پھر آدمی آدمی پر ہے۔طبائع مختلف ہیں اس میں شک نہیں۔ہر شخص نے اس چیز کو سامنے رکھ کے فیصلہ کرنا ہے کہ کتنی بھوک ہو تو میں کھانا چھوڑوں تو میری صحت کے اوپر اور میری جو زندگی ہے کہ میں نے کام کرنا ہے خدا تعالیٰ کے حکم (کے) مطابق اپنی ذمہ داریوں کو نباہنا ہے اپنے خاندان کی بھی ، اپنی قوم کی بھی ، اپنے رشتے داروں کی بھی ، اپنے ساتھ ہم عصر انسانوں کی بھی ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں، کتنی طاقت مجھ میں ہونی چاہیے کہ میں ان تمام ذمہ داریوں کو نباہ سکوں؟ وہ طاقت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا بھوک محسوس کر رہے ہو گے تو کھانا چھوڑ دو گے تب بھی وہ طاقت تمہیں ملے گی کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کوئی ایسا حکم نہیں دے سکتے جو حسن اعظم ہیں یعنی ہم سوچ بھی نہیں سکتے کہ کوئی ایسا حکم دیں گے جو ہمارے لئے نفع رساں ہونے کی بجائے ہمارے فائدے کے خلاف ہو، مضرت رساں ہووہ۔اگر ہم کوئی لقمہ کھانے کا ضائع نہ کریں اگر ہم ابھی بھوک ہو تو کھانا چھوڑ دیں تو ہمارے