خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 834
خطبات ناصر جلد ہشتم ۸۳۴ خطبہ جمعہ ۱۹/دسمبر ۱۹۸۰ء کے ساتھ گزرجاتا ہے۔اس لئے عام طور پر دوست یہ محسوس نہیں کرتے کہ کس قدر بڑی ذمے داری جلسہ سالانہ کی احباب جماعت پر ہے۔مجھ پر بھی اور آپ پر بھی۔گزشتہ برس ہمارے بڑے محتاط اندازہ کے مطابق ڈیڑھ لاکھ مرد و زن جلسہ سالانہ میں شامل ہوا اور ہمارے اندازہ کے مطابق قریباً پندرہ بیس ہزار ہمارے دوست تھے جو اس وقت تک ابھی جماعت میں داخل نہیں ہوئے تھے۔ان میں سے بہت سے بعد میں ہو گئے بہت سے نہیں ہوئے کیونکہ مذہب کا تعلق دل سے ہے جب تک دل نہ مانے کسی کو کوئی عقائد قبول کرنے نہیں چاہئیں۔یہ نفاق ہے اور نفاق جو ہے وہ اسلام پسند نہیں کرتا۔بہر حال اس سال ہم امید رکھتے ہیں کہ گزشتہ برس سے کہیں زیادہ دوست احمدی بھی اور ہمارے جو دوست ہیں اور تعلق رکھنے والے ہیں وہ بھی جلسہ میں شمولیت اختیار کرینگے۔اسی نسبت سے کام بھی بڑھ جائے گا۔اسی نسبت سے ہماری ذمہ داریاں بھی بڑھ جائیں گی۔اسی نسبت سے تدبیر کو وسیع کرنا پڑے گا۔اور زیادہ Efficient ایفیشنٹ ) زیادہ اچھا بننا پڑھے گا اور اسی نسبت سے پہلے سے زیادہ دعا کرنی پڑے گی اصل بات یہ ہے کہ دعا کے بغیر تو کچھ ہوتا ہی نہیں میں سوچتا رہتا ہوں میں نے بارہا سوچا کہ اتنے بڑے اجتماع کو بیماری سے محفوظ رکھنا کسی انسان کی طاقت میں نہیں ہے سردی کے موسم میں گھروں سے بے گھر ہو کے لاکھ ڈیڑھ لا کھ آدمی یہاں موجود ہوتا ہے اور جسم کے آرام بھول کے روح کی تسکین کے سامان ڈھونڈھ رہا ہوتا ہے۔غالباً تین یا چار سال کی بات ہے میں جب افتتاح کے لئے آیا تو بوندا باندی شروع ہو گئی۔سخت ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔اوپر سے ترشح شروع ہو گیا اور احباب اسی طرح بیٹھے رہے اور پھر مجھے خیال آیا کہ بعض کے پاس چادر میں ہیں عام طور پر زمیندار چادر اپنے ساتھ رکھتا ہے۔وہ بھی وہ نہیں اوڑھ رہے مجھے کہنا پڑا کہ چادریں اوڑھ لیں۔تب انہوں نے چادر اوڑھی جو غیر ملکی تھے اتنا اثر لیا اس چیز کا انہوں نے کہ آپ اندازہ نہیں کر سکتے۔ایک سے میں نے پوچھا کہ سب سے زیادہ اثر تم پر کس چیز کا ہوا یہاں۔ایک افریقن دوست کہنے لگے کہ جیسے کا یہ نظارہ دیکھ کے، تو بے خوف اپنے آرام کو خدا کے حضور پیش کر دیتے ہیں اور سب طاقتوں کا مالک جس کے ہاتھ میں ہے صحت دینا اور صحت قائم رکھنا وہ ان کی حفاظت کے سامان پیدا کر دیتا ہے یہ میں