خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 829
خطبات ناصر جلد ہشتم ۸۲۹ خطبه جمعه ۱۲ / دسمبر ۱۹۸۰ء صرف یہاں ۵۱۴ سال مسلمانوں کی حکومت رہی اور قرطبہ پر عیسائی قبضہ ۱۲۳۶ء میں ہو گیا۔قرطبہ اور اس کا علاقہ وہ صوبہ جو تھا اس کے اردگرد کا علاقہ جو تھا وہ ۱۲۳۶ء میں پھر عیسائیوں کے قبضہ میں چلا گیا اور یہاں اسلامی حکومت پانچ سو چودہ سال تک رہی اور جو مسجد بنی ہے وہ قرطبہ کے قریب ہے۔اس واسطے اگر قرطبہ جب عیسائیوں کے ہاتھ میں چلا گیا اس کے بعد تو مسلمانوں کی کوئی مسجد نہیں بنی تو اگر اس تاریخ سے ہم اپنی مسجد کی بنیاد کا زمانہ نکالیں تو یہ درست ہے بالکل کیونکہ قرطبہ اور اس کا علاقہ جو تھاوہ فتح کر لیا عیسائیوں نے اور اس کے بعد وہاں کوئی مسجد نہیں بنی۔اس لئے یہ درست ہے کہ سات سو چوالیس سال کے بعد پہلی بار ایک مسجد کی تعمیر کی بنیا د رکھی گئی وہاں۔اس واسطے سات سوسال جو کہا گیا ہے وہ درست ہے بلکہ سات سوسال سے بھی زیادہ عرصے کے بعد رکھی گئی۔ٹھیک سات سو چوالیس سال کے بعد۔غرناطہ جو ہے سقوط غرناطہ ۱۴۹۲ء میں ہوا یعنی آج سے چار سو اٹھاسی سال پہلے اس واسطے اگر جس وقت یہ شکست ہوئی اور مسلمان کلی طور پر چین سے نکل گئے۔یہ غرناطہ کے سقوط سے اسلامی سلطنت کا کلیتاً خاتمہ ہو گیا اور سات سو بیاسی سال کی اسلامی حکومت کے بعد یہ واقعہ ہو گیا سقوط غرناطہ ہے یہ اسلامی حکومت کے قیام کے سات سو بیاسی سال کے بعد ہوا۔غرناطہ کے سقوط کی نسبت سے اگر ہم کہیں یعنی جب سپین کلیتا اسلام کے ہاتھ سے نکل چکا تو پھر پانچ سو سال کے بعد وہاں مسجد کی بنیاد رکھی گئی لیکن قرطبہ کے سقوط کے لحاظ سے سات سو چوالیس سال کے بعد بنیا د رکھی گئی۔اس میں جو انتہائی دردناک چیز ہمیں نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ جس امت کو اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضلوں سے جب وہ بڑی تھوڑی تعداد میں وہاں گئے تھے اور ان کے مقابلے میں اس بارہ ہزار کے مقابلے میں ایک لاکھ سے زیادہ فوج تھی اس وقت جس بادشاہ نے شکست کھائی ان سے جس کو انہوں نے شکست دی اور پھر فتوحات حاصل کرتے ہوئے شمال تک پہنچ گئے۔جس وقت تین سو پچھتر سال کے بعد جو شمال کے قریب ترین اور ہماری اسلامی حدود کے شمالی حصے میں ایک شہر جو دار الخلافہ بھی رہا ہے ان کا۔ان پر عیسائیوں نے قبضہ کیا۔تو کوئی کوشش اس علاقے کو واپس لینے کے لئے نہیں کی گئی۔یہ درد ناک پہلو ہے اس کا ، بڑا بھیانک، پھر ان کی کچھ ہمت بڑھی۔پھر ۱۲۳۶ء میں