خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 804 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 804

خطبات ناصر جلد ہشتم ۸۰۴ خطبه جمعه ۲۱ / نومبر ۱۹۸۰ء آپ نے کہیں لکھا ہمیں۔کوئی انتظام آپ کا ہوا ہے۔کہتے ہیں میں نے تو نہیں لکھا۔میں نے کہا پھر چلیں میرے ساتھ۔میں ایک گھر میں گیا اپنے ہی بھائیوں کے، دوسرے میں گیا۔ایک جگہ ایک چھوٹی سی کوٹھڑی شائد ۸× ۸ کی تھی وہاں گندم کی بوریاں سال کے لئے رکھی ہوئی تھیں اس میرے بھائی نے تو وہ میں نے جاکے ان سے پوچھا کہ ایک مہمان کو چاہیے اس کو میں اٹھوا کے برآمدے میں رکھوا دیتا ہوں اور وہ میں نے برآمدے میں رکھوادیں۔چھوٹی سی کوٹھڑی ہے ایک اور وہاں پر الی چاولوں کی یادب ان دنوں میں چھنے والی ہوتی تھی میرے خیال میں وہ بچھا دی اور اتنے ممنون اور شکر گزار خدا کے کہ مجھے رہنے کی جگہ مل گئی اور وہ بعض دفعہ دو دولاکھ روپیہ چندہ دے دیتے تھے اتنا خدا نے ان کو دیا ہوا تھا پیسہ۔یہ باہر سے آنے والوں کی ذمہ داری ہے۔ان کو تو میں کہوں گا اپنے مقام سے نیچے نہیں گرنا اور بوہ والوں کو کہوں گا کہ تم نے بھی اپنے مقام سے نیچے نہیں گرنا۔جس حد تک ممکن ہو مہمان کو سہولت پہنچاؤ۔ان کو میں کہوں گا جس حد تک ممکن ہو اور طاقت ہو جلسہ کے لئے یہ جسمانی تکالیف جو ہیں ان کو برداشت کرو کیونکہ روحانی مائدہ ہے اصل جو یہاں بچھایا جاتا ہے اور اس کے اندر کوئی کمی نہیں آئے گی انشاء اللہ۔تو اس جلسے پر میرا خیال یہ ہے کہ پچھلے جلسے سے کافی زیادہ مہمان آئیں گے انشاء اللہ۔پچھلے جلسے پر ہمارا بڑا محتاط اندازہ تھا ایک لاکھ پچاس ہزار مہمان۔تو پچھلے جلسے پر میرا تاثر یہ تھا کہ یہ جوانگر ہیں یہ اپنی جتنی ان کی کپیسٹی (Capacity) ہے طاقت ہے لنگروں کی اس کی انتہا کو پہنچ چکے ہیں۔اس سال ایک تو میں باہر رہا لمبا عرصہ۔اس کے اپنے فائدے ہیں۔اللہ نے بڑے فضل نازل کئے دورے میں۔دوسرے یہاں کوئی ایسے حالات ہوں گے میں سمجھتا ہوں کہ دو۔بڑے لنگر نے بن جانے چاہئیں تھے نہیں بنے اگلے سال بن جائیں گے۔بہرحال یہ سمجھو کہ خدا تعالی دیکھنا چاہتا ہے کہ کتنا پیار ہم کرتے ہیں ہر قسم کے شکوک وشبہات سے بالا ہو کر خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اہل ربوہ ، تو پورا کرو۔ایک تو جتنے زیادہ سے زیادہ کمرے دے سکتے ہو وہ جلسہ کے نظام کو دو اور اس کے علاوہ جتنے زیادہ سے زیادہ اپنے رشتے دار، عزیز ، دوست یا واقف اپنے گھروں میں رکھ سکتے ہو وہ گھروں میں رکھو تا کہ ہم یہ احساس نہ ہونے دیں کسی کو کہ