خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 803
خطبات ناصر جلد هشتم ۸۰۳ خطبه جمعه ۲۱ /نومبر ۰ ١٩٨٠ء بچے پیدا ہوتے ہیں، بچپن سے ہی ہم کہتے ہیں ان کی تربیت کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان ساری چیزوں پر بڑا زور دیا اور لنگر پر یعنی مہمان یہاں آئیں اور مرکز میں خدا اور رسول کی باتیں سنیں اور مرکز میں آکر جو ایک سال کے زمانہ میں خدا تعالیٰ کی نعمتیں جماعت نے حاصل کیں، جو اس کی معجزانہ فتوحات، ڈنڈے اور تلوار کے ساتھ یا رائفل اور ایٹم بم کے ساتھ نہیں بلکہ جو پیار سے دل جیتے گئے ، جو مساجد بنائی گئیں، جو بنی نوع انسان کو خدا تعالیٰ اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لانے کے لئے ان کی اپنی زبانوں میں تراجم کر کے قرآن کریم کا نور اور حسن پیش کرنے کی کوشش کی گئی ، وہ باتیں سننے کے لئے یہ جلسہ ہے۔دعائیں ہوتی ہیں، ایک اس کی اپنی فضا ہے ، ذکر الہی ہے ، اطمینانِ قلب ہے الا بذکرِ اللَّهِ تَطْمَينُ الْقُلُوبُ (الرعد: ٢٩) جلسہ سالانہ کی افادیت اتنی زیادہ ہے اور اسی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ی لنگر کا ہی حصہ ہے نا ایک خاص وقت میں سال میں جلسہ سالانہ کا روپ دھار لیتا ہے اور جب سے لنگر کی طرف جماعت نے توجہ دی تو مہمانوں کی کثرت آنے لگی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو مہمان کا اتنا خیال رکھتے تھے کہ اگر کوئی یوپی سائیڈ (Side ) کا مہمان آجائے اور اس کو تمبا کو اور پان کھانے کی عادت ہو تو آدمی بھیجتے تھے ایک مہمان کے لئے ، قادیان میں تو یہ چیز میں نہیں ملتی تھیں، جو بٹالے سے یا اس سے بھی پرے سے اگر ضرورت پڑے تو وہاں سے اس کے لئے لے کے آتا تھا کہ مہمان کو تکلیف نہ ہو۔یہ تو ہماری ذمہ داریاں ہیں جو مرکز میں ہیں۔جو باہر سے آنے والے ہیں ان کی ذمہ داری اپنی ہے جس کا احساس ہے انہیں۔میں جلسہ سالانہ کا افسر بھی رہا ہوں۔ایک بڑا ہی پیارا واقعہ میرے مشاہدہ میں آیا ایک افتتاحی تقریر میں۔کاموں میں سے وقت نکالا افسر جلسہ سالانہ تقاریر جلسہ کم ہی سن سکتا ہے، ذمہ داریاں دوسری ہیں اس کی۔افتتاحی تقریر میں میں آیا ہوا تھا ادھر ہمارے دار الصدر میں ہی اس وقت جلسہ تھا تو غالباً سکول کے اس میں تھا ہاں یہ جو ہمارا تھا نصرت گرلز ہائی سکول اس کے میدان میں۔اس وقت تعداد کم تھی۔میں باہر نکلا تو میں نے دیکھا ایک کراچی کے لکھ پتی، ہاتھ میں انہوں نے پکڑا ہوا پنا سوٹ کیس اور وہ چلے آرہے ہیں۔تو ان کی ہیئت سے میں سمجھا کہ ان کا کوئی انتظام نہیں یہاں ابھی۔میں نے کہا