خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 64
خطبات ناصر جلد هشتم ۶۴ خطبہ جمعہ ۹ فروری ۱۹۷۹ء حضرت عیسیٰ کے فرمان کے علیہ السلام مطابق اپنی بڑائی ظاہر کرنا۔میں بڑا عفو کرتا ہوں ، یہ مقصود نہیں۔مقصود یہ ہے کہ تمہارا بھائی گناہگار ہوا۔خدا سے دور جا رہا ہے اس کے گناہ کی معافی ملے اور معافی کوئی میں اور آپ تو نہیں دے سکتے کسی اور کے گناہ کی، وہ خود تائب ہوا اپنی اصلاح کرے اور خدا کی طرف واپس آئے۔اصل مقصود یہ ہے اس واسطے جَزُوا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا اتنا حصہ موسوی شریعت نے لے لیا تھا فمن عفا اتنا حصہ عیسی علیہ السلام کے فرمان میں جو ترمیم کی انہوں نے اُس میں آگیا لیکن قرآن عظیم نے کامل ہدایت جو تھی اس نے کہا جَزُوا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةُ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ فَاجْرُهُ عَلَى اللهِ (الشوری: ۴۱) کہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ عفو سے معاف کر دینے سے اصلاح ہوتی ہے وہ معاف کر دے جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ معاف کر دینے سے اصلاح نہیں ہوتی وہ بدلہ لے لیکن بدلے میں زیادتی نہ کرے اُس پر جتنا ظلم ہوا ہے اتنا ہی بدلہ ہو اس سے زیادہ نہ ہو۔تو میں بتا یہ رہا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل ہدایت اور شریعت، درخت انسانیت کی ہر شاخ کی پوری پرورش کرنے والی ہے۔پہلی ہدایتیں اور شریعتیں ہر درخت انسانیت کی ہر شاخ کی پرورش کرنے والی نہیں۔جن شاخوں کی پرورش کرتی ہیں اُن کی بھی پوری پرورش کرنے والی نہیں ہیں۔پانچویں صفت جو جس کی طرف پہلے بھی اشارہ آیا وہ یہ کہ آپ کامل اُسوہ ہیں۔پہلے آپ کے صرف ایک حصہ کے متعلق آیا تھا۔زندگی کے ہر موڑ پہ اور ہر ضرورت کے وقت انسان فیصلہ کرتا ہے کہ میں کیا کروں کیا نہ کروں۔اس کے لئے ہمیں کہا گیا ہے کہ اگر تمہیں اپنے کسی مسئلہ کا فیصلہ در پیش ہے۔تمہارے تعلقات ہیں باہمی دوسروں سے۔ہزار چیزیں ہیں جو ہماری زندگی میں ہمارے سامنے آتی ہیں۔تم نے فیصلہ کرنا ہے کہ میں کیا کروں، کیا نہ کروں۔ہمیں کہا گیا ہے کہ اگر تو تمہاری نیت یہ ہو کہ تم نے وہ فیصلہ کرنا ہے جس سے اللہ راضی ہو تو ہم تمہیں بتاتے ہیں تو پھر وہ فیصلہ کرنا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کے مطابق ہے۔لَقَد كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ - (الاحزاب: ۲۲)