خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 745 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 745

خطبات ناصر جلد ہشتم ۷۴۵ خطبه جمعه ۱۰ اکتوبر ۱۹۸۰ء مدد اور رحمت کے بغیر ممکن نہیں۔وہ خود ہی راہنمائی کرے تو سیدھا راستہ سامنے نظر آتا رہتا ہے ور نہ انسان کی نظر بھٹکتی اور پاؤں میں لغزش پیدا ہو جاتی ہے۔وہ جو آسمان کی بلندیوں تک پہنچے تھے سمندروں کی گہرائیوں میں ان کی ہڈیوں کا بھی نشان نہیں ہمیں ملتا کچھ ان کے کارناموں کے خال خال نقوش نظر آتے ہیں۔غرناطہ میں الحمرا ہے قرطبہ کی مسجد ہے وہ بھی بہت کچھ خراب ہو چکی مرورِ زمانہ یا تعصب دشمنان کے نتیجے میں لیکن ان کے نشانات نظر آتے ہیں ان پر۔آج صبح ہم مسجد دیکھنے گئے تو محراب کی چھت جو تھی اس کے اوپر جو نقش و نگار تھے ان میں بھی خدا تعالیٰ کی صفات کی عظمت کو انہوں نے نمایاں کیا ہوا تھا۔كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأن (الرحمن : ۳۰) تنوع بھی تھا اور اس میں وحدت بھی جھلک رہی تھی اللہ تعالیٰ کی عظمتوں کی لیکن وہ انسان جس کو خدا نے یہ سب کچھ کرنے کی توفیق عطا کی وہ تو ضلالت کے گڑھے میں گر گیا اور ایک وقت ایسا آیا کہ صرف ایک انسان تھا جس نے اپنے کردار سے اسلام کی عظمت کو قائم رکھا۔اس نے کہا شکست نہیں تسلیم کرنی ، لڑنا چاہیے۔اگر نہیں لڑتے تو میں جاتا ہوں۔وہ اکیلا گھوڑے پر سوار ہوا اور غرناطہ کے قلعہ سے نکلا اور خدا جانے کہاں گیا ؟ اغلب یہی ہے کہ وہ اکیلا دشمن کی کسی فوج کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہو گیا۔اگر وہ اس وقت علماء ظاہر کی بحثیں سننے میں اپنا وقت ضائع نہ کرتے جب وہ اس پریشانی کے وقت میں غرناطہ کے چوراہوں میں ایک دوسرے کے خلاف تقریریں کر کے آپس میں بغض اور عناد کی آگ کو ہوا دے رہے تھے اور خدائے واحد و یگانہ کی طرف توجہ کرتے اور خدا کے ہو کر خدا کے لئے لڑتے تو یقیناً دشمن کو شکست دیتے اور یہ خلیہ نہ ہوتا جو آج اس ملک کا نظر آتا ہے۔قریباً آٹھ صدیاں ، ساڑھے سات سو سال کم و بیش یہاں مسلمان نے حکومت کی۔حکومت کے ظلم سے نہیں انصاف کے ساتھ۔غرناطہ میں الحمرا میں جوگا ئیڈ ملا وہ کہتا تھا کہ میں بھی ایک مسلمان خاندان کا عیسائی بیٹا ہوں اور پھر یہ دیکھیں ( وہ کہہ رہا تھا ) مسلمان بادشاہوں نے اتنا عدل قائم کر رکھا تھا کہ چھوٹی چھوٹی جو چپقلش ہو جاتی ہے، رنجشیں پیدا ہو جاتی ہیں، بدمزگیاں ہوتی ہیں فضا کو خراب کرتی ہیں ، ان سے بھی بچانے کے لئے عیسائیوں کے علیحدہ کوارٹر، محلے بنا دیئے تھے۔شہر کا