خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 746 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 746

خطبات ناصر جلد هشتم ۷۴۶ خطبه جمعه ۱۰ را کتوبر ۱۹۸۰ء ایک حصہ تھا اس میں عیسائی تھے ، ان کے گرجے تھے ان کے پادری تھے، وہ جس طرح چاہتے تھے وعظ کرتے تھے۔یہودیوں کا ایک علیحدہ علاقہ اور جیپسی (Gipsy) جن کو آج بھی غیر مسلم حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ان کا جو تمدن اور ثقافت تھی اس کو نہیں چھیڑا۔وہ چاہتے تھے کہ کیوز (Caves) میں جو وہاں ان کو میسر آتی تھیں اُن میں رہیں اور جب دل کرے خانہ بدوش بن کے ادھر اُدھر پھرتے رہیں۔حکم تھا، تم جس طرح چاہتے ہو اپنی زندگی گزارو۔آج بھی وہ کیوز (Caves) میں ہیں لیکن آج وہ عزت اور احترام جو ایک مسلمان انہیں دیتا تھا اس عزت اور احترام سے وہ محروم ہیں۔اس مہذب دنیا میں، اُس مہذب دنیا میں جو حقیقی معنی میں مہذب تھی وہ محروم نہیں تھے۔پھر مسلمانوں کے کوارٹرز تھے۔عیسائیوں کو گرجے بنانے کی اجازت تھی، مسلمانوں کو گرجے گرانے کی اجازت نہیں تھی۔ہمارا گائیڈ کہنے لگا وہ جو سامنے آپ کو بہت بڑا گر جا نظر آتا ہے یہ مسجد تھی جسے گر جا بنایا گیا۔اس کے صحن میں ابھی وضو کر نے کے لئے جوا نتظام ہوا کرتا تھا وہ موجود ہے۔بہر حال زمانہ کروٹ نہیں بدلتا انسان کا دل کروٹ بدلتا ہے اور دنیا بجھتی ہے کہ شاید زمانہ بدل گیا۔جب تک انسان خدا کا ہو کر خدا میں زندگی بسر کرتا رہے زمانہ جو کچھ بھی کرے گا اس کے حق میں کرے گا۔اور جب یہ تعلق ٹوٹ جائے اور انسان خدا کی بجائے شیطان کی گود میں اپنے آپ کو بٹھا دے، پھر خدا تعالیٰ کی رحمتوں کی توقع رکھے یہ حماقت ہے، وہ تو نہیں اس کو مل سکتی۔رحمت تو تبھی ملے گی جب انسان سمجھے کہ جو کچھ ملا، وہ خدا سے ملا ، جو کچھ مل سکتا ہے وہ اللہ تعالیٰ سے ہی مل سکتا ہے اور ہدایت کی اس روشنی کو اور ٹور کے اس جلوہ کو دیکھنے کے بعد پھر بہک جانا اور ٹور کی بجائے ظلمت میں آجانا اور صراط مستقیم کو چھوڑ کر کج روی کو اختیار کر لینا، اتنا بڑا ظلم ہے جو انسان اپنے پر کرتا، جو انسانی نسلیں اپنے پر کرتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس سے بچنے کے لئے ہمیں یہ دعا سکھا دی ربنا لا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا - اب ایک نیا دور شروع ہوا ہے عظمتِ اسلام کا۔مہدی آگئے اور جس صدی میں آنے کی بشارت دی گئی تھی وہ صدی اختتام پر ہے۔بہت سے لوگ -