خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 724
خطبات ناصر جلد هشتم ۷۲۴ خطبه جمعه ۱۵ راگست ۱۹۸۰ء برسو کہ بندوں کو اس کی ضرورت ہے اور کبھی حکم دیتا ہے کہ برسو تاز مین پر میرا قہر نازل ہو۔برسنے کی ان دونوں حالتوں کو یا نہ برسنے کو اس نے اپنی اپنی جگہ آیت قرار دیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہر صفت کا ہر جلوہ آیت ہے اور اس لئے آیت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کے حصول کا ذریعہ ہے۔اب اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ دنیوی علوم کی تحصیل کفر ہے تو اس کے یہ معنی ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی صفات کے جلوؤں کے علم کی تحصیل کو کفر قرار دیتا ہے۔سو یہ بالبداہت غلط ہے جس قدر انسان اس کی صفات کے جلوؤں سے آگاہ ہوتا ہے اسی قدر اس کی معرفت الہی بڑھتی چلی جاتی ہے کیونکہ ایسا شخص اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کو بھی جانتا ہے اور اس کے جمال اور اس کی رحمت کو بھی پہچانتا ہے۔بہر حال جن علوم کو دنیا د نیوی علوم کہتی ہے قرآن کریم نے انہیں بھی روحانی علوم قرار دیا ہے اور اس لئے قرار دیا ہے کہ وہ بھی معرفتِ الہی کے حصول کا ذریعہ ہیں۔ہم احمدیوں نے اللہ تعالیٰ کو کبھی فراموش نہیں کرنا اور اس کی معرفت کے حصول سے کبھی غافل نہیں ہونا۔اسی لئے میں نے اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی دی ہوئی توفیق سے ایک تعلیمی منصوبہ جماعت کے سامنے رکھا ہے اگر جماعت اس بارہ میں تعاون کرے اور میرے کہنے پر چلے تو علمی ترقی کی راہیں کھلنے کے ساتھ ساتھ معرفتِ الہی میں ترقی کی بھی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔اور قوم و ملک اور بنی نوع انسان کی خدمت بجالانے کی بعض نئی راہوں پر گامزن ہونے کی توفیق بھی مل سکتی ہے۔میں نے کہا یہ ہے کہ ہمارا ہر بچہ میٹرک تک ضرور تعلیم حاصل کرے۔جس ملک میں خواندگی کی شرح سترہ فیصد ہوا اگر اس میں جماعت کا ہر بچہ میٹرک پاس کرتا چلا جائے تو یہ امرخواندگی کی شرح میں اضافہ کا موجب ہوگا اور یہ ملک کی کتنی بڑی خدمت ہوگی۔پھر اس منصوبہ کی افادیت کا ایک پہلو اور بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ جو شخص ان پڑھ ہے وہ قرآن کو سمجھ ہی نہیں سکتا۔برخلاف اس کے ایک میٹرک پاس میں قرآن کو سمجھنے کی اہلیت پیدا ہو جاتی ہے۔اسی طرح جو ذہین ہیں اور بی۔اے، بی۔ایس سی تک تعلیم حاصل کریں گے ان میں قرآن