خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 723
خطبات ناصر جلد ہشتم ۷۲۳ خطبه جمعه ۱۵ راگست ۱۹۸۰ء لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس نے جو کارنامہ بھی سرانجام دیئے ان کی حیثیت روٹی کے جھڑنے والے چند بھوروں سے زیادہ نہ تھی ان لوگوں کے غرور کو توڑنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے فضل پر بھروسہ کرتے ہوئے احمدیوں کے واسطے علم کے میدانوں میں ترقی کرنا ضروری ہے۔اسی لئے حضرت مسیح موعود کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک دعا سیکھائی گئی جو یہ ہے کہ رَبِّ أَرِنِي حَقَائِقَ الاشياء یعنی اے میرے رب مجھے اشیاء کے حقائق دیکھا۔اس میں دراصل یہ بتانا مقصود تھا کہ علم ترقی کے لئے دعا کے ذریعے خدا تعالیٰ کی مدد حاصل کرنا ضروری ہے مغربی اقوام نے دیگر علوم کی طرح نیوکلیر فزکس میں ترقی تو کی لیکن عارفانہ دعا کے فیض سے انہوں نے اپنے آپ کو محروم رکھا۔اللہ تعالیٰ نے ان کی علمی ترقی کی لگن ، تڑپ اور جدو جہد کو ایک جاہل کی دعا کے طور پر ( جسے حضرت مسیح موعود نے ایک محبوبانہ دعا قرار دیا ہے ) قبول کر کے ان پر علمی ترقی کی راہیں کھول دیں ترقی تو انہوں نے کر لی۔لیکن حقائق الاشیاء تک ان کی رسائی نہ ہوسکی۔وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ کی رو سے انہیں اپنی تحقیقات کو انسانوں کے فائدے کے لئے استعمال کرنا چاہیے تھا لیکن انہوں نے کیا یہ کہ جاپان کے دو شہروں کو صفحہ ہستی سے نابود کر دیا۔ہمیں رَبِّ أَرِنِي حَقَائِقَ الْأَشْيَاءِ کی دعا اس لئے سکھائی گئی ہے کہ ہم پر علمی میدان میں آگے بڑھنے کی راہ بھی کھلے اور ساتھ ہی ہمیں اللہ تعالیٰ کا نور بھی ملے تاکہ ہم اپنی علمی ترقی سے بنی نوع انسان کو دکھ میں مبتلا نہ کریں اور انہیں سکھ پہنچا ئیں اور اسی طرح ان کے خادم بنے جس طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تھے۔اسی لئے دنیاوی علوم کے بارہ میں ہمارے نقطہ نظر اور مغربی قوموں کے نقطہ نظر میں زمین و آسمان کا فرق ہے جنہیں دنیا محض دنیاوی علوم کہتی ہے ہم انہیں معرفتِ الہی کا ذریعہ سمجھتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہر دینی صداقت کے لئے آیت کا لفظ استعمال کیا ہے اسی طرح مظاہر قدرت کو بھی جن کا تعلق دنیوی علوم سے ہے اس نے آیت قرار دیا ہے۔بخارات کو بھی اس نے آیت قرار دیا ہے اور بادلوں کو بھی پھر بارش کے برسنے کو بھی آیت قرار دیا ہے اور نہ برسنے کو بھی اس لئے کہ بادل وہیں برستے ہیں جہاں انہیں برسنے کا حکم ہو اور جہاں حکم نہ ہو وہاں نہیں برستے۔کبھی وہ بادلوں کو حکم دیتا ہے کہ اس لئے