خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 722
خطبات ناصر جلد ہشتم ۷۲۲ خطبه جمعه ۱۵ راگست ۱۹۸۰ء کو کام میں لا کر حصول علم کی کوشش کرنی چاہیے۔دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر ہم علم حاصل نہیں کر سکتے۔اور اس کی مدد کے بغیر ہم پر تحقیق کی راہیں نہیں کھل سکتیں اور تیسرے یہ کہ ہمیں حصول علم کی جدو جہد کے دوران دعا کے ذریعہ اس کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہیے تا وہ رجوع برحمت ہو اور ہم پر حصول علم کی راہیں وا کرے۔حصول علم کی یہ بنیاد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی ہمارے ذہن نشین کرائی ہے۔آپ فرماتے ہیں۔تم خوش ہوا اور خوشی سے اچھلو کہ خدا تمہارے ساتھ ہے۔اگر تم صدق اور ایمان پر قائم رہو گے تو فرشتے تمہیں تعلیم دیں گے اور آسمانی سکینت تم پر اترے گی اور روح القدس سے مدد دیئے جاؤ گے اور خدا ہر ایک قدم میں تمہارے ساتھ ہو گا۔اور کوئی تم پر غالب نہیں ہو سکے گا۔خدا کے فضل کی صبر سے انتظار کرو۔گالیاں سنو اور چپ رہو۔ماریں کھاؤ اور صبر کرو حتی المقدور بدی کے مقابلہ سے پر ہیز کرو۔تا آسمان پر تمہاری مقبولیت لکھی جاوے۔آپ کا یہ ارشاد کہ فرشتے تمہیں تعلیم دیں گے حصول علم کے تعلق میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔خدا تعالیٰ اس وقت ہی تعلیم دینے کے لئے فرشتوں کو مقرر کرے گا۔جب ہم علم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ علمی ترقی کے لئے اس کے حضور دعائیں کریں گے۔یہ غلبہ اسلام کے زمانہ کا ہے اور اللہ تعالیٰ سے تو فیق چاہتے ہوئے اسلام کو عملاً غالب کرنے کی ذمہ داری ہماری جماعت پر ڈالی گئی ہے۔غلبہ اسلام کا یہ جہاد صرف دینی میدانوں تک ہی محدود نہیں ہے یہ ذہنی اور اخلاقی میدانوں میں آگے بڑھنے تک محدود ہے بلکہ یہ اس امر کا متقاضی ہے کہ ہم زندگی کے ہر میدان میں آگے بڑھ کر دوسروں سے سبقت لے جائیں۔فی الوقت میں علمی ترقی کے میدان میں سبقت لے جانے کی اہمیت واضح کروں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں علمی ترقی بہت زیادہ ہونا تھی۔انسان نے چاند پر قدم رکھنا تھا اور قریب ترین فاصلوں سے ستاروں اور سیاروں کی تصاویرا تار نا تھیں۔انسان نے عملی ترقی کے میدان میں یہ کارنامہ سرانجام دے کر یہ سمجھ لیا کہ اس نے سب کچھ معلوم کر لیا ہے