خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 704 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 704

خطبات ناصر جلد ہشتم ۷۰۴ خطبہ جمعہ ۱۸ / جولائی ۱۹۸۰ء اسے قرآن مجید میں بیان کر دیا تا کہ ہم بھی وہ دُعا کریں اور اس سے فائدہ اُٹھا ئیں وہ دُعا یہ ہے که رَبِّ إِنِّي لِمَا اَنْزَلْتَ إِلَى مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ ( القصص : ۲۵) اس کے معنے ہیں کہ اے اللہ جو خیر بھی تیری طرف سے نازل ہو میں اس کا محتاج ہوں خیر کے معنے بہت وسیع ہیں خیر کے معنوں کا پتہ خود قرآن مجید کی بعض دوسری آیات سے لگتا ہے مثلاً اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔قُلِ اللهُم مُلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُحِنُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ۔(آل عمران : ۲۷) اس کے معنی ہیں تو کہہ اے اللہ تو سلطنت کا مالک ہے جسے چاہتا ہے سلطنت دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے سلطنت لے لیتا ہے۔جسے چاہتا ہے غلبہ بخشتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کر دیتا ہے سب خیر تیرے ہی ہاتھ میں ہے اور تو یقیناً ہر ایک چیز پر قادر ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ نے ملک کا ذکر کیا ہے ملک کا یہ لفظ دونوں قسم کے ملکوں پر حاوی ہے یعنی ایسے ملک پر بھی جس کا بادشاہت سے تعلق ہے اور ایسے ملک پر بھی جس کا بادشاہت سے تعلق نہیں۔مؤخر الذکر ملک کو دینی اصطلاح میں روحانی بادشاہت کہتے ہیں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا :۔مجھ کو کیا ملکوں سے میرا ملک ہے سب سے جدا مجھ کو کیا تاجوں سے میرا تاج ہے رضوانِ یار سو ملک کے لفظ میں دنیوی بادشاہت اور روحانی بادشاہت دونوں شامل ہیں۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تعلق کسی ایک ملک سے نہیں بلکہ ساری دُنیا کے ساتھ ہے اس لئے آپ کو جو ملک عطا ہوا ہے اُس سے مراد روحانی بادشاہت ہے۔اسلام میں کوئی مجدد ایسا نہیں آیا جس کا تعلق اپنے علاقہ اور اپنی صدی سے باہر کے علاقہ اور صدی سے ہولیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ میں صرف چودھویں صدی کا مجدد نہیں بلکہ مجدد الف آخر ہوں۔اسی لئے آپ نے خدا تعالیٰ کی طرف سے عطا ہونے والی اپنی روحانی بادشاہت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ میرا ملک سب سے جُدا ہے اور میرا تاج صرف رضوانِ یار ہے۔بتا میں یہ رہا ہوں کہ خیر کے معنوں میں دونوں ملک شامل ہیں ایک دُنیوی لحاظ سے ملک اور