خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 685
خطبات ناصر جلد هشتم ۶۸۵ خطبه جمعه ۱۳ /جون ۱۹۸۰ء یورپ میں بسنے والے احمدی بھی، افریقہ والے احمدی بھی ، آسٹریلیا والے احمدی بھی ، انڈونیشیا والے احمدی بھی میری باتوں پر کان دھرتے ، میری نصائح سے فائدہ اٹھاتے ، جو اسلامی تعلیم میں ان کے سامنے رکھتا ہوں اس کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں اور دوسروں کے مقابلہ میں بہت پیار اور محبت سے وہ رہتے ہیں۔تو خلیفہ وقت تو ایک جگہ ہی ہوگا جب اکثر اوقات یہ ساری دنیا جو ہے ہزارہا میل سے میری آواز کو سنتی اور پیار اور اخوت کے ساتھ زندگی کے دن گزار رہی ہوتی ہے تو اگر میں تھوڑے سے عرصہ کے لئے ربوہ سے باہر چلا جاؤں تو ربوہ والوں کو یہ حق تو نہیں پہنچتا کہ چونکہ خلیفہ وقت یہاں نہیں ہے اس لئے ایک دوسرے کے خلاف غصے نکال لو۔پس میری نصیحت یہ ہے کہ کبھی بھی نہ لڑو ایک دوسرے سے مسکراتے چہروں سے ملاقات کرو۔سلام سے اپنے کلام کی ابتدا کرو کسی کا حق نہ مارو۔غلط فہمیاں دور کرنے کے لئے جہاں تک طاقت میں ہو تمہاری اپنے حقوق چھوڑ دو۔بے شک دینے والا تو اللہ ہے وہ دیتا ہے۔جب دینے پہ آتا ہے تو اتنا دیتا ہے کہ آپ کی جھولیوں میں وہ چیز سمانہیں سکتی۔وہ دیتا ہے افراد کو بھی ، وہ دیتا ہے جماعت کو بھی۔افراد کے متعلق بھی میں مثالیں دیا کرتا ہوں لیکن جماعت تو ہمارا سانجھا مال ہے نا۔ہر احمدی جو ہے جماعت کا مال اس کا مال ہے۔اس مال کی برکتیں ہر احمدی کو نظر آنی چاہئیں اور اس کے مطابق اس کی زبان سے ہر آن اور ہر وقت الحمد للہ نکلنا چاہیے۔۷۰ء میں مغربی افریقہ کے بعض ملکوں کا میں نے دورہ کیا۔وہاں مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ایک نئے پروگرام کا۔جماعت میں میں نے اس کی تحریک کی۔ساری جماعت نے اس وقت بڑے پیار کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور ۵۳ لاکھ روپیہ پیش کر دیا۔اب ان ملکوں کی سکیم کہ اتنے کالجز کھولے جائیں گے اور اتنے ہسپتال کھولے جائیں گے۔اس لحاظ سے تو ۵۳ لاکھ روپے کوئی چیز نہیں ہیں۔وہاں کے جو مشنریز عیسائی ہسپتال ہیں وہ دو دو کروڑ روپیہ ایک ایک ہسپتال پر خرچ کرنے والے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کو آپ کے پیسے کی تو ضرورت نہیں آپ کے دل میں جو اس کا پیار موجزن ہوتا ہے اسے وہ پسند کرتا اور محبت کی نگاہ سے دیکھتا اور اسی کے مطابق وہ آپ سے سلوک