خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 682
خطبات ناصر جلد ہشتم ۶۸۲ خطبه جمعه ۱۳ / جون ۱۹۸۰ء ہاتھ میں شفا دے۔اسلام آباد میں کچھ عرصہ بعد گیا تھا۔غالباً بیماری کے دو ہفتے سے زائد ہوا تھا جب میں یہاں سے گیا ہوں وہاں۔اس عرصہ میں ایک اینٹی بائیوٹک جرم کش دوائی مجھے ڈاکٹروں نے دی اور اس نے غالباً اس بیماری کو تو کچھ سنبھالا ، مؤثر ہوئی ایک حد تک لیکن گردوں پر اس دوائی نے حملہ کیا اور گردوں نے کام کرنا چھوڑ دیا۔دو دن تک گردوں نے پیشاب ہی نہیں بنایا اور اس سے بڑی فکر پیدا ہوئی۔پیشاب آور دوائیں استعمال کیں ( حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ دوائیں ہر قسم کی کھالینی چاہئیں۔جس چیز میں اللہ تعالیٰ شفا رکھنا چاہے گا رکھ دے گا۔شرک سے اپنے نفس کو بچانا چاہیے ) بہر حال میں نے مشورہ کے بعد طب کی ایک دوائی تجویز کی اور ہومیو پیتھک کی دوائی شروع کی پیشاب آور کہ گردے کام کرنا شروع کر دیں اور ڈاکٹروں نے ایلو پیتھک کی بھی ایک دوائی دی اس دوائی کے لٹریچر میں یہ ذکر نہیں تھا کہ اس دوائی میں میٹھا پڑا ہوا ہے۔اور میں بیمار ہوں شکر کا اور میں تھوڑی سی دوائی بھی لیتا ہوں لیکن زیادہ تر بہت احتیاط کرتا ہوں کھانے میں اور اللہ تعالیٰ نے فضل کیا ہے مجھے تکلیف نہیں دے رہی یہ بیماری۔ذیا بیطس جسے کہتے ہیں قابو میں رہتی ہے لیکن میں نے محسوس کیا کہ ایلو پیتھک کی دوائی کے نتیجہ میں میراشکر کا نظام جو ہے اس میں نقص پیدا ہورہا ہے اور مجھے تکلیف ہوگئی۔ربوہ شروع کی دوائی۔پھر اسلام آباد چلے گئے ایک دن وہاں میں نے ایک دوست سے جو دوائیوں کی دکان کرتے ہیں کہا مجھے شبہ ہے کہ میٹھا ہے اس دوائی میں پتہ تو کرو۔ان کی اچھی واقفیت ہے۔انہوں نے بڑی بڑی دکانوں سے پتہ کیا۔انہوں نے کہا ہمیں علم نہیں لیکن اس کے لٹریچر میں نہیں لکھا کہ اس میں میٹھا ہے۔ایک شریف انسان مل گیا اس نے کہا میری واقفیت ہے پاک ڈیوس کے ساتھ جو کراچی میں یہ دوائی بنارہے ہیں، انہیں میں فون کر کے پوچھتا ہوں۔اس نے فون کیا تو جواب ملا کہ بالکل فکر نہ کرو اس میں ہم نے سکرین نہیں ڈالی بلکہ خالص میٹھا ڈالا ہے۔تو خالص میٹھے کے تین پیالے بھر کے مجھے پلانے شروع کئے ہوئے تھے ذیا بیطس کی بیماری میں جو میں نے زیادہ تر کھانے سے کنٹرول کی ہوئی تھی۔خون میں میری شکر ۱۳۰ کے لگ بھگ رہتی تھی جو کچھ زیادہ ہے نارمل