خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 683
خطبات ناصر جلد هشتم ۶۸۳ خطبه جمعه ۱۳ / جون ۱۹۸۰ء سے لیکن ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ اتنی ہے تو کوئی فکر کی بات نہیں وہ ایک سو تیس سے بڑھ کے دوسو ہیں تک چلی گئی اور خاص مقدار سے جب آگے بڑھے تب یہ قارورے میں آتی ہے۔قارورے میں ۴ ء ا شکر نکل آئی۔لیکن پھر یہ ہو گیا کہ چکر چل گیا بیماری اور دوائیوں کا۔میں بیچارا مریض بیچ میں پھنسا ہوا۔وہ دوا چھوڑی لیکن ایک دفعہ یہ شکر کا نظام Upset ہو تو آ تو جاتا ہے کنٹرول میں لیکن بڑی محنت کرنی پڑتی ہے اور بڑی قربانی دینی پڑتی ہے۔کھانا میرا اتنا کم ہے کہ آپ حیران ہو جائیں گے کہ میں دو پہر کے کھانے میں ایک چھٹانک سے زیادہ آٹا نہیں کھاتا۔میرا معمول ہے یہ۔اور رات کے کھانے میں اس سے بھی کم۔تو اگر شکر کا خیال کرنا پڑے تو آدھی چھٹانک آٹارہ جائے گا۔میں ایک پھلکا کھاتا ہوں مشکل سے اور اس میں کمی کی گنجائش بڑی تھوڑی ہے۔جو چار روٹیاں کھاتا ہو وہ دو کر دے، جو ایک ہی کھاتا ہے وہ کیا کرے۔بھوکا تو نہیں رہ سکتا انسان۔بہر حال پہلے تو میں نے وہ میٹھی دوائی چھوڑی ، صرف دوائی چھوڑنے سے دوسو میں سے ایک سواسی ، بیاسی پر آ گیا۔پتا لگ گیا کہ دوائی کا اس میں حصہ تھا۔پھر گرمی میری مستقل بیماری بن گئی ہے۔اس سال سے جب کام کے دوران ایک اس قسم کی گرمی کے موسم میں تین دفعہ مجھے با قاعدہ کو لگ کے Heat Stroke بخار،گھبراہٹ ،سر درد کے حملے شروع ہو گئے تھے۔جس کو ایک دفعہ بھی یہ بیماری ہو جائے گرمی با قاعدہ بیماری بن جاتی ہے۔اسلام آباد میں جو انفیکشن کی دوائی تجویز کی گئی ، میں نے اسی دن ساڑھے دس بجے رات پہلی خوراک کھالی۔ایک مہینہ میں نے وہ اینٹی بائیوٹک کھائی۔اس نے بڑا فائدہ کیا لیکن خود اینٹی بائیوٹک ضعف کرنے والی ہے اور ایک مہینہ کے بعد اب میں گیا ہوں تو انہوں نے دوبارہ جو ٹیسٹ لیا، ابتدائی رپورٹ کے مطابق قریباً ۹۰ فیصد آرام ہے ابھی دس فیصد بیماری موجود ہے۔دوائی شاید بدل دیں۔آج یا کل ان کی طرف سے آئے گی اطلاع۔یہ کچھ لمبا چکر پڑ گیا ہے۔یہ اس لئے میں نے آپ کے سامنے بیان کیا ہے اسے کہ آپ دعا کریں کہ خدا تعالیٰ مجھے بیماری کے اس چکر سے نکالے اور پوری صحت دے تاکہ میں پورا کام کروں۔اپنی ذمہ داری پورے طور پر نباہ رہا ہوں۔جو کام میرے کرنے کے ہیں وہ میں ہی کر سکتا ہوں۔مثلاً بیماری کے ایام میں ایک دن