خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 52
خطبات ناصر جلد هشتم ۵۲ خطبہ جمعہ ۲ فروری ۱۹۷۹ء کے ساتھ کوئی بھی شخص کسی نبی کی اُمت نہیں بن سکتا۔ساری شریعتیں منسوخ ہو گئیں ان کی اُمت کیسے بن سکتا ہے صرف ایک عظیم ہستی ہے محمدصلی اللہ علیہ وسلم جن کی اُمت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد کوئی انسان بن سکتا ہے اور وہ بچہ کہے کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے ہوں آپ کے اُسوہ کی پیروی کرنے والا۔صرف اتنا کہ جو آپ کے اخلاق ہیں وہ میں پیدا کروں گا یہ بھی شاید اس عمر میں بعض بچوں کو سمجھ نہ آئے لیکن ان کو یاد کروا دو۔حفظ کروا دو کہ ساری عمر تک اس کو نہ بھولیں اس فقرے کو کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہوں اور سوائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی اور اُسوہ کی پیروی نہیں کروں گا۔ہے احمد سے بیعت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق مہدی آگئے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جس مہدی کو اپنا سلام بھجوایا تھا میں نے اس مہدی کو پہچانا، اس کی بیعت کر لی اس کے ساتھ میرا تعلق ہو گیا اور ایک جماعت اس مہدی نے قائم کر دی اور خلیفہ کی طاعت میں ہوں، بیعت میں ہوں اور یہ میں احمدی ہوں۔احمدی ہونے کا میرا یہ مطلب ہے اور پھر اسی کو ہم اسی کو پھیلائیں گے۔اس میں سب کچھ آ گیا اور آٹھ سال تک ہم اس کو تعلیم دیتے چلے جائیں گے۔اس کے لئے جماعت کو چوکس رہ کر خدام الاحمدیہ کو خصوصاً اور اس سے بھی زیادہ انہی کا حصہ ہے وہ لوگ خدام الاحمدیہ کے جن کا تعلق اطفال الاحمدیہ سے ہے اور ہر خاندان کو۔یہ بڑا ضروری ہو گیا ہے ہمیشہ ہی یہ ضروری ہے کہ بچے کو ضائع نہ ہونے دیا جائے لیکن اس زمانہ میں کہ وہ جو آج سات سال کا بچہ ہے جس وقت وہ تیس سال کا ہوگا۔آج سے تئیس سال کے بعد تو دنیا میں اسلام کے حق میں اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و شان کے لحاظ سے ایک انقلاب عظیم بپا ہو چکا ہو گا۔اس وقت کے حالات جو ذمہ داریاں ہمارے بچوں کے کندھوں پر ، وہ بچے جو آج سات سال کے ہیں ڈالیں گے ان ذمہ داریوں کو نباہنے کی اہلیت اور طاقت اور استعداد اور صلاحیت تو ان کے اندر ہونی چاہیے۔جماعت، خاندان، انصار، خدام الاحمدیہ، اطفال کے نظام کے عہد یدار ، مائیں ، بڑی بہنیں، ہر وہ شخص جس کا کسی نہ کسی پہلو سے ایک بچے