خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 659
خطبات ناصر جلد هشتم ۶۵۹ خطبه جمعه ۱/۲۵ پریل ۱۹۸۰ء بچے کو ( اور میری نظر پڑ گئی میرے سامنے بہت سے بچے اکٹھے بیٹھے ہوئے ہیں ) قرآن کریم ناظرہ پڑھانا چاہیے ، اس کو سکھانا چاہیے۔ہر بچہ جو احمدیت میں پیدا ہو جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک احمدی گھرانے کو بطور عطا کے دیا جائے جب یہ عمر شروع ہو اس کے والدین کا فرض ہے کہ اس کو ناظرہ قرآن کریم شروع کروا دیں اور پڑھا ئیں۔پھر اس کا ذہن ترقی کرتا ہے۔پھر وہ ترجمہ پڑھ سکتا ہے۔سمجھ سکتا ہے۔قرآن کریم سیکھنے کا یہ دوسرا دور اس کی عمر میں شروع ہو گیا اسے قرآن کریم پڑھنا چاہیے اور سیکھنا چاہیے۔ترجمہ اس کو آنا چاہیے۔پہلے تو ناظرہ تھا نا۔وہ عربی کے الفاظ اٹھانے لگ گیا۔اسے پھر ترجمہ سکھانا چاہیے۔ترجمہ سیکھنے کی یہ عمر گہرائیوں میں جانے کی عمر نہیں۔یہ درست ہے لیکن ترجمہ سیکھنے کی یہ عمر بنیاد بنتی ہے اس زمانہ کے علوم کے سیکھنے کی جس زمانہ میں وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ ان گہرائیوں میں وہ جائے اور علوم کو سیکھے۔پھر اس کی عمر کا تیسرا دور شروع ہوتا ہے۔پھر اسے مختصر تفسیری نوٹس قرآن کریم کی آیات سے تعلق رکھنے والے سکھانے چاہئیں۔اسے خود کوشش کر کے سیکھنے چاہئیں۔ماں باپ کو سکھانے چاہئیں جو اس سے قبل امید رکھتا ہو کوشش کر چکے ہوں گے ان کے سیکھنے کی۔پھر اس کی دوڑ علم کے میدانوں میں مختلف جہات کی طرف ہو جاتی ہے اور ہر شعبہ زندگی میں قرآن کریم راہنمائی اور راہبری کرتا ہے جو روحانی علوم سیکھے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ان میں نمایاں ہو کر ہمارے سامنے آتے ہیں مثلاً جامعہ احمدیہ میں تعلیم حاصل کرنے والے ان کو تفسیر قرآن کریم کی تفسیر تو ویسے نہ ختم ہونے والی تفسیر ہے لیکن جس حد تک وہ اپنی استعداد کے مطابق سیکھ سکیں ان کو تفسیر آنی چاہیے۔بڑی عمر کے لوگ جو مختلف علوم حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مثلاً طبیعات میں ہیں ، حساب سے ان کا تعلق ہے، فلسفے سے ان کا تعلق ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ ہمارا دماغ کیسے کام کرتا ہے۔ہمارے آباء واجداد کے کیا حالات تھے اور ان حالات میں ان کا رد عمل کیا تھا یہ تاریخ ہے۔ہم نے اپنے معاشرہ کو کن اصول پر قائم کرنا ہے، ہمارا لین دین کیسے ہوگا وہ سوشیالوجی آجاتی ہے۔ہم نے ایک دوسرے کے حقوق کوکس طرح ادا کرنا ، اپنی ذمہ داریوں کو کس طرح نباہنا ہے اور اپنے حقوق کو کیسے حاصل کرنا ہے سیاست آجاتی ہے۔