خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 628
خطبات ناصر جلد ہشتم ۶۲۸ خطبہ جمعہ ۷ / مارچ ۱۹۸۰ء کائنات کا اس کے علم نے احاطہ کیا ہوا ہے وہ اس کا پیدا کرنے والا ہے اس کے اندر جو کچھ بھی خواص پائے جاتے ہیں، جو کچھ خواص میں کمی ہوتی ہے، جو بڑھوتی ہوتی ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اس کے آمر سے یا اس کے خلق سے وہ چیز ہورہی ہے۔وہ اس سے پوشیدہ اور چھپی ہوئی نہیں۔وہ انسانوں کی طرح نہیں کہ آج یا د کر لیا یا سن لیا اور کل کو بھول گیا خدا نہ کرے آپ میں سے بعض بھول ہی جائیں کہ میں آپ کو کیا نصیحت یہاں کر کے گیا ہوں کہ قرآن کریم کا علم حاصل کرتے رہنا ہے اسے بھولنا نہیں۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سورۃ کہف تک کی تفسیر یعنی وہ عبارتیں جہاں آپ نے آیت بھی لکھی ہے اور آگے اور اس کی تفسیر بھی کی ہے شائع ہو چکی ہے۔ویسے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ساری عبارات کسی نہ کسی آیت کی تفسیر ہیں جیسا کہ میں نے ابھی بتا یا لیکن بعض جگہ آیات دی ہیں بعض جگہ آیت کا Reference ( حوالہ ) نہیں دیا اور معانی بیان کر گئے ہیں۔یہاں میرے نزدیک ( آپ کے رجسٹروں سے میراعلم اور قیافہ اور اندازہ مختلف ہے) کراچی کے حلقہ میں پانچ ہزار سے زیادہ خدام الاحمدیہ کی عمر کے احمدی ہیں۔بہت سارے رجسٹروں پر نہیں آئے اس کی بہت ساری وجوہات ہیں اس وقت ان میں جانے کی ضرورت نہیں۔خدام الاحمدیہ سے میں نے کہا تھا کہ بتاؤ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت نے جو تفسیر چھاپی جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آیات کا حوالہ دے کر تفسیر کی ہے وہ کتنے خدام کے پاس ہے۔اب سورہ فاتحہ ہے۔فاتحہ قرآن کریم کا خلاصہ ہے۔فاتحہ میں خلاصتاً وہ تمام علوم آگئے ہیں جو قرآن عظیم میں آئے ہیں۔سورہ فاتحہ ایک چیلنج ہے ساری دنیا کے لئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ چیلنج دیا۔ایک دفعہ ایک عیسائی سے پادریوں نے مل کے سوچ کے سر جوڑ کے یہ سوال کر وا دیا تھا کہ جب آپ کے نزدیک بھی بائیبل خدا تعالیٰ کا کلام ہے تو پھر قرآن کی کیا ضرورت تھی ، اتنی موٹی کتاب بائیبل جو کم و بیش ستر کتابوں پر مشتمل ہے وہ قرآن کریم کے مقابلہ میں بہت بڑی ہے