خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 48
خطبات ناصر جلد هشتم ۴۸ خطبہ جمعہ ۲ فروری ۱۹۷۹ء ہیں سال ریسرچ کرتے رہے بچوں کی نیوٹریشن (Nutrition)، بچوں کی غذا پر اور جونتیجہ نکالا انہوں نے اس کا خلاصہ ایک فقرے میں انہوں نے۔کتاب شائع کی اپناPaper شائع کیا ایک فقرے میں یہ نکالا کہ کھانے کے لحاظ سے ۱۸ سال کی عمر تک انسان بچہ ہے اور اس عمر تک جوطبی لحاظ سے ہم نے ریسرچ کی اور حقیقت کو پایا وہ یہ ہے کہ ۱۸ سال کی عمر تک جس وقت جس چیز کی جتنی مقدار میں خواہش پیدا ہو وہ ملنی چاہیے تب اس کی صحت ٹھیک رہے گی۔ہمارے ملک میں تو یہ ممکن نہیں میرے خیال میں، میں نے بڑا سوچا کہ ہر پاکستانی اس پر تو عمل نہیں کر سکتا۔ہزارہا روکیں ہیں قوم کو صحتمند بنانے کے راستہ میں لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ جس حد تک ہم اپنی نسلوں کو صحتمند بنا سکتے ہیں اتنی بھی نہ بنائیں۔اس لئے میں ہر خاندان اور ہر جماعت کو کہتا ہوں کہ توجہ کریں، توجہ دلائیں جہاں تک ممکن ہوا انتظام کریں کہ اطفال الاحمدیہ کو روزانہ کم از کم آدھ سیر دودھ ملے اور کوشش کریں کہ کم سے کم ملاوٹ والا ملے۔دوسرے یہ کہ جو وہ کھاتے ہیں اس کے ہضم کے لئے ان کو ورزش کرنی چاہیے۔یہ بھی انتظام ہونا چاہیے نگرانی ہونی چاہیے کہ پوری ورزش کر لیتے ہیں۔ورزش کچھ تو ہے اجتماعی ، ٹیمیں بنتی ہیں فٹ بال کرکٹ وغیرہ کی۔ورزشیں ہیں جن کے لئے Play Grounds چاہئیں کھیل کے میدان چاہئیں۔ورزشیں ہیں جن کے لئے پانی چاہیے کشتی رانی وغیرہ وغیرہ لیکن بعض ایسی ورزشیں ہیں جن کے لئے اس قسم کا کوئی سامان نہیں چاہیے۔اصل مقصد ہے ورزش کرنا تا کہ کھانا ہضم ہو جائے اور چلنا جسے انگریزی میں Walk کہتے ہیں، پیدل چلنا تیز ، تیز تیز چلنا بڑی اچھی ورزش ہے۔دوڑ نا اس کے لئے بھی کسی کھیل کے میدان کی ضرورت نہیں۔چلنے کے لئے تو بچے سیر کے لئے نکلیں۔میلوں کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام قریباً آخری عمر تک آٹھ۔دس میل روزانہ کی سیر کرتے تھے۔الا ماشاء اللہ۔کوئی ضروری کام ہو جائے۔یہ تو ان کی بنیادی جو ضرورت وہ میں نے بتا دی۔باقی کام خدام الاحمدیہ اور جماعتوں کا ہے۔مناسب غذا جس میں دودھ ضرور ہو اور مناسب ورزش جس سے ان کا کھانا ہضم ہو جائے۔بعض بچے ایسے ہوتے ہیں کہ جن کے اندر کوئی کمزوری لمبی بیماری کی وجہ سے یا لمبی بے پرواہی کی