خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 614 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 614

خطبات ناصر جلد ہشتم ۶۱۴ خطبه جمعه ۲۹ فروری ۱۹۸۰ء یہ ہمارا جسم جو ہے یعنی ہمارے اپنے وجود کا وہ حصہ جس کا ہماری آزادی ضمیر کے ساتھ تعلق نہیں ، وہ ربوبیت کا محتاج ہے اور ایسی ہستی کی ربوبیت کا محتاج ہے۔جو اس کی اس رنگ میں ربوبیت کرے کہ انسان کا جو مقصودِ حیات ہے اس میں یہ ربوبیت محمد اور معاون ہو۔اب متصرف بالا رادہ ہستی جو ہر چیز کی کنہ کو، ہر چیز کے اندر اور باہر کو جاننے والی ہو، نہ ہوتی اور اپنی مرضی سے ربوبیت کرنے والی نہ ہوتی تو انسانی جسم، اس کے بھیجے کے اعضاء مثلاً از خود بن بھی سکتے تھے کہ جو انسان عقل رکھنے والا ہے وہ اس کی عقل کا ساتھ نہ دیتے۔یہ چیزیں بہت سارے فلاسفروں نے بھی کہا کہ ایک انقلاب عظیم ہے یہ جمپ (Jump) کہ جو زندگی ہے وہ باشعور اور عقل مند زندگی بن گئی ان کے درمیان وہ جو کہتے ہیں نہ Evolutionary Theory ہر جگہ چلائی ہے انہوں نے جس میں انہوں نے بھی ، اس کے مقابلہ میں فلاسفرز نے یہی کہا ہے اتنا بڑا جمپ (Jump) ہے اس کو تم explain نہیں کر سکتے ، اس کی حکمت نہیں، اس کی وجہ نہیں بتا سکتے کہ کیسے یہ ہو گیا کہ ایک مُردہ چیز میں زندگی پیدا ہوگئی، ایک زندہ چیز میں عقل پیدا ہوگئی، ایک عقل میں اخلاق کا شعور پیدا ہو گیا، اخلاق کے شعور میں یہ احساس پیدا ہو گیا کہ میں خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کر سکتا ہوں۔فلاسفر ز تو اس تقسیم میں نہیں گئے۔ہمیں اسلام نے جو بتایا میں اس تقسیم میں جارہا ہوں، انہوں نے تو صرف یہ کہا ہے کہ مردہ سے زندہ پیدا ہونا اتنی بڑی انقلابی چھلانگ ہے کہ یہ تمہاری سوچ بھی اسے explain نہیں کر سکتی ، تو دلیل یہاں دی ہے وَ هُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ چار الفاظ میں بڑی زبر دست ، کہ جس چیز کو بھی تم لو اول یہ وہ ربوبیت کی محتاج ہے۔کوئی چیز اپنی انتہائی عروج کو پہنچی ہوئی نہیں بنتی نہیں رہتی ، کوئی نہیں ہے۔گندم کا بیج لے لو،۔۔۔۔۔۔کا بیچ لے لو۔ایک ہیرا لے لو، صدیوں میں مٹی کے ذرے مل کے جو تبدیلی ان ذروں میں، زمانے میں وہ تبدیلی پیدا ہوتی ہے جس سے وہ ہیرا بنتا ہے۔کئی مٹی میں ایسے ڈھیلے پڑے ہوئے ہوں گے اب بھی ، جو ایک ہزار سال کے بعد ہیرے کی شکل میں وہاں سے کھودے جائیں گے اور اگر آج آپ اسے کھو دیں تو وہ ہیرے کی شکل میں نہیں آپ کے ہاتھ میں آئیں گے ، وہ مٹی کے ایک ڈھیلے کی شکل میں پتھر ہو گا ، ایک خاص قسم کا پتھر ہوگا ، ہیرا بہر حال نہیں ہوگا۔دوائیں ہیں، ایک وہ دوا ہے جو جڑی بوٹیاں ہیں۔