خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 590 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 590

خطبات ناصر جلد ہشتم ۵۹۰ خطبه جمعه ۱۵ رفروری ۱۹۸۰ء لے لیں۔طلیطلہ میں ایک جگہ ایک چھوٹی سی مسجد ہے جو اس مسجد سے قریباً نصف کے برابر ہے۔میں نے کہا یہ ہمیں استعمال کے لئے دے دو میں سال کے لئے۔میں نے وہاں اپنے مبلغ کو کہا ہیں سال میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اسلام کے حق میں ، جماعت احمدیہ کے حق میں اس قسم کا انقلاب یہاں بپا ہوگا کہ اس کے بعد پھر یہ شکل بدل جائے گی اس واسطے ان کو کہو کہ بیس سال کے لئے نماز کے لئے استعمال کی ہمیں اجازت دے دیں۔ساتھ ان کے مشن ہاؤس بھی بن سکتا تھا۔حکومت کہے کہ ہم راضی ہیں اور امید بندھ گئی لیکن جو وہاں کے سب سے بڑے بشپ تھے انہوں نے کہا ہم نے تو کوئی نہیں دینی۔ان کا وہاں بڑا اثر ہے اس واسطے نہیں ملی۔پچھلے سال خدا تعالیٰ نے ایسا سامان پیدا کیا کہ وہ شہر قرطبہ جہاں سب سے بڑی مسجد ہے اس سے قریباً بیس بائیس میل کے فاصلے پر ایک زمین مل گئی ( مسجد اور مشن ہاؤس کے لئے ) اور اجازت مل گئی مسجد بنانے کی۔یہ سب سے بڑی چیز ہے۔مقامی منتظمہ نے بھی اجازت دی اور مرکزی حکومت نے بھی اجازت دی کہ بے شک یہاں مسجد بنالو۔اوسلو میں مل گئی۔یہ زمین مل گئی۔فرانس اور بجٹیم اور اٹلی رہ گئے ہیں۔میرا خیال ہے اور ایک سال میں یہاں بھی مساجد کا انتظام ہو جائے گا۔یہ میں بتا رہا ہوں کہ یہ بھی ایک تیاری تھی استقبال کی کہ ہر جگہ ہمارے مشن ہوں۔پھر قرآن کریم کی اشاعت کے بھی سامان پیدا ہو گئے جلسے پر میں نے بتایا تھا کہ امریکہ میں ایک مطبع خانہ ایسا ملا ہمیں جس سے ہمارا تعلق قائم ہو گیا ہے۔کوئی سات آٹھ مہینے کی خط و کتابت کے بعد بہت سے جھگڑوں کے بعد وہ راضی ہوئے قرآن کریم ہمارے لئے چھاپنے کے لئے یہ مراحل جب طے ہو گئے تو چند دن کے اندر بیس ہزار نسخے انہوں نے شائع کر دیئے اور اس طرح ہمیں امید بندھی کہ انشاء اللہ تعالیٰ کل کو اگر ہمیں بیس ہزار نہیں ہیں لاکھ کی بھی ضرورت پڑی تو سو دو سو دن کے اندر نہیں لاکھ شائع کر دیں گے۔بہت بڑا مطبع خانہ ہے۔وہ بھی میں نے بتایا تھا کہ جلسہ سالانہ پر فضلوں کا منادی خلیفہ وقت بن کر یہ تقریر دوسرے دن کی کیا کرتا ہے۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں میں سے ایک فضل ہو گیا۔اس چھوٹی سی تمہید کے بعد اس وقت میں جماعت کو مختلف پیرا یہ میں ایک اور ضروری اور