خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 589 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 589

خطبات ناصر جلد هشتم ۵۸۹ خطبه جمعه ۱۵ رفروری ۱۹۸۰ء لئے بھی اور آپ کے اور میرے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے مہیا کر دیئے۔سپین عیسائیت کا گڑھ ہے۔کیتھولزم بڑا گہر اوہاں گڑا ہوا ہے۔اسلام سے نفرت وہاں عام پائی جاتی ہے۔اس وجہ سے کہ ایک وقت میں مسلمان وہاں کا حاکم تھا۔پھر اپنی ہی غفلتوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے پیار کو وقتی طور پر انہوں نے کھویا اور سارا ملک بھی کھو یا اس کے نتیجہ میں اور جہاں مشرق و مغرب، شمال و جنوب میں مسلمان ہی مسلمان اور اسلامی معاشرہ اور اسلام کی شان اور خدا تعالیٰ کی محبت کے جلوے ان کی زندگی میں نظر آ رہے تھے وہاں بت پرستی شروع ہوگئی اور ایک عاجز انسان کو خدا بنا کے انہوں نے وہاں زندگی گزارنی شروع کی اور طبعاً حالات کے نتیجہ میں انہیں بڑی سخت نفرت اسلام اور مسلمان سے تھی، نام نہیں لیتے تھے۔ہماری سب سے بڑی مسجد مسلمانوں نے اپنے عروج کے زمانہ میں جو بنائی وہ چین میں ہے مسقف چھت اس کی بہت وسیع ہے۔( ایک منزلہ چھت میں جان کے کہہ رہا ہوں کیونکہ بعض مسجد میں بنی ہیں چھ چھ منزلہ ان کی بات نہیں میں کر رہا ) ایک منزل ہے اور چالیس ہزار نمازی مسقف چھت کے نیچے نماز پڑھ سکتا ہے۔اتنی بڑی مسجد ہے جو ہاتھ سے نکل گئی۔انہوں نے وہاں ایک گرجا بنا یا۔ساری مسجد کو گر جا نہیں بنا سکتے تھے کیونکہ ہر دن کا ہر لمحہ جو تھا وہ ان کا مضحکہ اڑاتا اتنی بڑی مسجد کو گر جا بنایا اور چند آدمی وہاں آئے عیسائی طریقے پر عبادت کرنے کے لئے۔میں جب ۷۰ ء میں اس مسجد کو دیکھنے گیا تو مجھے وہ گر جا نظر ہی نہیں آیا۔پرانی عظمتیں اور ان کی یاد میرے ذہن میں آئی تو بڑی محبت کا اظہار کیا ہے اس زمانہ کے مسلمان نے خدا کے ساتھ اور خدا کے گھر کے ساتھ ہیرے جواہرات اور سونے سے وہاں نقش و نگار کر دیئے تھے۔جڑاؤ ( کا ) کام کر دیا اپنی جانوں پر اپنی عورتوں پر ہیرے جواہرات اور سونا خرچ نہیں کرتے تھے۔خدا کے گھر پر خرچ کر دیا۔یہ لوٹ کے لے گئے ایک چھوٹا سا گر جا بنادیا۔نظر میری اٹھی ان ستونوں پر اس کی وسعت پر اور کسی نے مجھے کہا وہ وہ دیکھیں (وہ لمبا کیا دوری بتانے کے لئے ) ایک گرجا بھی بنا ہوا ہے اس مسجد کے اندر۔6 میں نے ۷۰ء میں تجویز کی کہ تم نے جو ہماری مسجد میں لی ہیں ٹھیک ہے حالات بدلے،