خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 582 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 582

خطبات ناصر جلد هشتم میں رکھ دیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔۵۸۲ خطبه جمعه ۸ فروری ۱۹۸۰ء يَهْدِيهِمْ رَبُّهُمْ بِايْمَانِهِمْ جس معنی میں یہاں ایمان کا لفظ استعمال ہوا ہے وہ لوگ جو اس معنی کے لحاظ سے ایمان کے ہر پہلو کے لحاظ سے مومن ہیں اللہ تعالیٰ کامیابی کی راہ پر انہیں آگے ہی آگے بڑھاتا چلا جاتا ہے يَهْدِيهِمْ یعنی یہاں یہ بات بتائی گئی ہے کہ انسان ایک وقت میں نیک کام کرنے والا ، مناسب حال کام کرنے والا بھی ہے لیکن جو آج کے بعد میں سالہ اس نے زندگی گزاری کسی وقت میں وہ ٹھو کر بھی کھا سکتا ہے۔یہ بھی اس کے ساتھ لگا ہوا ہے اس واسطے خدا تعالیٰ کی ہدایت کے بغیر ہم اپنے بہتر خیر خاتمہ تک نہیں پہنچ سکتے۔اس کی یہاں بشارت دی کہ تم ایمان اور عملِ صالحہ پر قائم رہو۔خدا تعالیٰ تمہارا خاتمہ بالخیر کرنے کا سامان پیدا کر دے گا۔يَهْدِيهِمْ رَبُّهُمْ بِايْمَانِهِمْ تمہارا خاتمہ بالخیر ہوگا یعنی آخری سانس تک تم خدا تعالیٰ کے دامن کو مضبوطی کے ساتھ اپنے ہاتھ میں تھامے رکھو گے تم خدا کے اخلاق اپنے اخلاق پر چڑھا کے زندگی گزارنے والے ہو گے۔تم فانی فی اللہ اور فانی فی محمد کی حیثیت میں اپنے اپنے دائرہ استعداد میں اپنی زندگیوں کے اوقات گزارنے والے ہو گے۔تم پر خدا تعالیٰ یہ فضل کرے گا۔اپنی کوشش سے انسان ایسا نہیں کر سکا۔یہ جو عمل ہے اس میں مثلاً ہم کسی کو عمل صالح کسی کو اس کا حق دیتے ہیں ، مال کے لحاظ سے کوئی ایسا طالب علم ہو نہار آجاتا ہے جس کا ہم وظیفہ مقرر کرتے ہیں۔اس کا حق خدا نے قائم کیا ہے۔یہ بھی عمل صالح ہے اور خدا تعالیٰ کی تسبیح و تحمید کرنا اس کی کبریائی بیان کرنا اور اس کے جلال اور اس کی جو عظمت ہے اس کا ہر وقت اپنے ذہنوں میں تصور رکھنا اور دنیا کے سامنے اس کی عظمت و جلال کو پیش کرنا اس کے حُسن کے جلوؤں سے واقفیت حاصل کرنے کی کوشش کرنا دعاؤں کے ذریعے۔تو دعا بھی عمل میں شامل ہے۔اسی واسطے حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ جس شخص نے کامیاب ہونا ہو وہ تد بیر کو بھی اپنی انتہا تک پہنچائے جو ظاہری چیز ہے اور دعا کو بھی اپنی انتہا تک پہنچائے۔جب دعا اور تد بیر دو مختلف چیزیں چلتی چلتی ایک نقطے پر اکٹھی ہو جاتی ہیں۔نقطہ کمال پر تب اللہ تعالیٰ فضل کرتا اور دعا کو قبول کرتا اور تدبیر میں اپنی رحمت سے ایسے سامان پیدا کرتا ہے کہ