خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 583
خطبات ناصر جلد هشتم ۵۸۳ خطبه جمعه ۸ فروری ۱۹۸۰ء کامیاب ہو جاتا ہے۔انسان يَهْدِيهِمْ رَبُّهُمْ بِايْمَانِهِمْ اس ایمان میں دعا شامل ہے دعا بھی عمل صالح ہے اللہ اکبر کہنا، الْحَمدُ للهِ کہنا، سُبْحَانَ اللہ کہنا خدا تعالیٰ کی صفات کا ورد کرنا یہ سب دعاؤں میں شامل ہیں۔تو جو شخص دعاؤں میں لگا رہتا ہے (ایمان میں وہ بھی ہے ) اور دوسرے احکام بھی بجالاتا ہے اللہ تعالیٰ ایسا سامان پیدا کرتا ہے کہ کامیابی کی راہ پر خدا تعالیٰ ایسے لوگوں کو آگے ہی آگے بڑھاتا چلا جاتا ہے اور ان کا خاتمہ بالخیر ہوتا ہے ساری عمر نیکی پر وہ قائم رہتے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ یہ خاتمہ بالخیر یہ نویں بات بتائی اللہ تعالیٰ نے۔وو دسویں یہ بتایا : - دَعُوهُمْ فِيهَا سُبُحْنَكَ اللهُمَّ وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَمٌ ۚ وَآخِرُ دَعُوهُمْ آنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ زیادہ لمبی تفسیر کرنے کی بجائے میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ اس آیت سے ہمیں پتہ لگا، یہ بات بڑی اہم ہے مجھ سے بھی بہت دفعہ بہتوں نے سوال کیا کہ کیا جنت میں عمل نہیں ہوگا تو یہ بھی بعض لوگوں کے دماغ میں اُلجھن پیدا کرتا ہے بعض نا سمجھی سے یہ سمجھتے ہیں کہ وہاں کوئی عمل نہیں ہے۔اس دنیا میں ہے۔ہمارا محاورہ بھی ہے کہ یہ عمل کی دنیا ہے۔عمل عمل میں فرق ہے۔ایک وہ عمل ہے جو امتحان کے طور پر ہوتا ہے یعنی ایک وہ عمل ہے جو مثلاً بی۔اے کا ایک طالب علم کر رہا ہے۔محنت کرتا ہے۔بڑی محنت کرتا ہے راتوں کو جاگتا ہے، جو اچھے پڑھنے والے ترقی یافتہ اقوام میں ان کے نوجوان اتنی محنت کرتے ہیں کہ آپ اندازہ نہیں لگا سکتے۔آکسفورڈ میں میں نے دیکھا کہ محنتی طالب علم اپنی کلاس کے علاوہ بارہ تیرہ گھنٹے روزانہ اتوار سمیت سات دن ہفتہ کے سارے دنوں میں بارہ تیرہ گھنٹے خود اپنے کمرے میں بیٹھ کر پڑھتا ہے۔یہ عمل ہے جس کے بعد وہ کسی نتیجہ یعنی امتحان میں یا فیل ہو گا یا پاس ہوگا یعنی ایسا عمل جس کے نتیجے میں فیل ہونا یا پاس ہونا لگا ہوا ہے۔یہ جو ساری دنیا ہے ہماری جس کو ہم عمل کی دنیا کہتے ہیں اس کو ہم جزا کی دنیا بھی کہتے ہیں یعنی یہاں کے سارے اعمال ایسے ہیں جن کے نتیجے میں یا اللہ تعالیٰ ہم سے خوش ہوگا یا اللہ تعالیٰ ہم سے ناراض ہوگا یا ہمارے اعمال مقبول ہوں گے اللہ تعالیٰ انہیں قبول کرے گا۔اپنی رحمت سے یا رد کر دیئے جائیں گے یا اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کی جنتوں میں