خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 568 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 568

خطبات ناصر جلد هشتم ۵۶۸ خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۸۰ء میرے پر تو یہ وحی نازل ہوئی ہے اور میں (نے ) تمہارے سامنے پیش ( کر دی ہے )۔دوسرے یہ کہا کہ اگر خدا چاہتا تو کوئی اور قرآن کسی اور شکل میں کسی اور پر نازل کرتا۔ولا ادرسکھ ہے وہ تمہیں اس تعلیم سے آگاہ نہ کرتا جو میں تمہارے سامنے پیش کرتا ہوں بلکہ کسی اور کو بھیجتا وہ ایک اور تعلیم لے کر آتا لیکن میرے پر اس وحی کے علاوہ کسی اور وحی کا نازل نہ ہونا اور کسی اور کا خدا تعالیٰ کی وحی لے کر نہ آنا ثابت کرتا ہے کہ خدا نہیں چاہتا کہ کوئی اور وحی تمہارے سامنے پیش کی جائے۔اور ساتھ ہی یہ کہا فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرا ان کو کہ دو لمبی عمر تم میں گزار چکا ہوں چالیس سال ہو گئے دعوئی سے پہلے اَفَلَا تَعْقِلُونَ پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے۔یہ چالیس سالہ زندگی جو میں نے تمہارے اندر گزاری ہے اس سے تمہاری عقل کو یہ نتیجہ نکال لینا چاہیے تھا کہ میں جھوٹ نہیں بولا کرتا۔میں افتر انہیں کرتا۔کیا تم کو بخوبی معلوم نہیں کہ افتر ا کرنا میرا کام نہیں اور جھوٹ بولنا میری عادت نہیں۔تو جس شخص نے اتنی لمبی زندگی میں نہ کبھی افترا کیا ہواور نہ جھوٹ بولا ہواور تم سارے کے سارے اس بات کے گواہ ہو آج یہ کیوں نہیں سمجھتی تمہاری عقلیں کہ جب انسان کے سامنے میں نے جھوٹ نہیں بولا تو خدا کے سامنے میں کیسے جھوٹ بولوں گا۔یہ جو زندگی اس صدق اور وفا کے ساتھ اور محبت کے ساتھ اور خدا تعالیٰ سے کامل تعلق کے ساتھ ، خدا تعالیٰ کا کامل پیار لیتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گزاری، اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بہت کچھ لکھا ہے اس کا ایک چھوٹا سا اقتباس جوحسن اتفاق سے آج میری نظر پڑی وہ لاہور میں انہوں نے چھاپا ہوا ہے۔میں نے تو پہلے سے دیکھا ہوا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔” واقعاتِ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر نظر کرنے سے یہ بات نہایت واضح اور نمایاں اور روشن ہے کہ آنحضرت اعلیٰ درجہ کے یک رنگ اور صاف باطن اور خدا کے لئے جان باز اور خلقت کے بیم و امید سے بالکل منہ پھیر نے والے اور محض خدا پر تو گل کرنے والے تھے جنہوں نے خدا کی خواہش اور مرضی میں محو اور فنا ہو کر اس بات کی کچھ بھی پروانہ کی کہ توحید کی منادی کرنے سے کیا کیا بلا میرے سر پر آوے گی اور مشرکوں کے ہاتھ