خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 564 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 564

خطبات ناصر جلد ہشتم ۵۶۴ خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۸۰ء اور کوئی دور نہیں کر سکتا۔ہاں اس نے دوائیں پیدا کیں کسی اور نے تو نہیں پیدا کیں۔اس نے انسانی ذہن یا انسانی اذہان میں سے بعض ذہنوں کو یہ قابلیت اور استعداد دی کہ وہ طب کے میدان میں آگے نکلیں اور مہارت حاصل کریں۔جب طبیب کے پاس ہم جاتے ہیں تو اس لئے نہیں جاتے کہ طبیب اپنی ذات میں کوئی طاقت رکھتا ہے شفا دینے کی، شفا خدا نے دینی ہے۔بڑے بڑے ماہر طبیب غلطی کرتے اور اپنے مریضوں کی موت کا سبب بن جاتے ہیں۔بڑے بڑے دعا گو چھوٹے قسم کے طبیب غلطی نہیں کرتے اور دعاؤں کے نتیجے میں اپنے مریضوں کی شفا کا موجب بن جاتے ہیں۔تو فَلا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ یہ شرک کے بہت سارے یا قریباً سارے ہی جو پہلو ہیں ان کو یہاں کاٹ کے رکھ دیا۔وَإِن يَمْسَسْكَ بِخَيْرِ اگر تمہیں کوئی خیر اور بھلائی پہنچے تو تمہیں یہ بھولنا نہیں چاہیے کہ ہر خیر اور بھلائی کا سر چشمہ اور منبع جو ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔تمہارا دوست تمہیں بھلائی نہیں پہنچا سکتا، خیر نہیں پہنچا سکتا جب تک خدا نہ چاہے۔تم خود اپنے آپ کو خیر نہیں پہنچا سکتے۔جب تک اللہ تعالیٰ کی مرضی نہ ہو۔وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِه (الانعام : ۱۹) وہ اپنے بندوں پر غالب اور متصرف بالا رادہ ہے۔کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں خدا تعالیٰ کی جو طاقتیں ہیں ان سے باہر نکل کے اس کے احکام اور اوامر اور اس کی منشا سے دور جا سکتا ہوں نہیں۔وہ اپنے بندوں پر غالب ہے، ہاں اس کا یہ جو غلبہ ہے اس کا سلوک تصرف بالا رادہ ہونے کی حیثیت کے لحاظ سے جو ہے وہ اس کی ان دوصفات کے ماتحت ہے۔بڑی حکمتوں والا ہے۔اپنی حکمتوں کو سامنے رکھ کے وہ اپنے فیصلے کرتا ہے اور سب حالات سے باخبر ہے۔وہ باخبر تھا جس طرح قرآن کریم میں آتا ہے کہ ایک نیک کی اولاد کے خزانہ کی حفاظت کر لی اور ایک نیک کو برائی سے بچانے کے لئے اس کے بچے کی موت کا سامان پیدا کر دیا۔تو وہ خبیر ہے اور حکمت کا ملہ کا مالک ہے۔سورۃ انعام کی جو یہ آیات ہیں اس میں جو بنیادی چیز آپ کے دماغ میں میں چاہتا ہوں حاضر رہے وہ یہ ہے کہ اُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَم کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے