خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 536
خطبات ناصر جلد ہشتم ۵۳۶ خطبہ جمعہ ۱۱؍ جنوری ۱۹۸۰ء سے چھپی نہیں رہتی۔اگلی آیت میں ہے۔وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا (هود: ۱۱۴) جو ظالم لوگ ہیں۔جو اپنی فطرت کے خلاف، اپنی زندگی کے مقصود کے خلاف جو اسلامی تعلیم کے خلاف، جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کے خلاف عمل کرتے اور ظلم کرتے ہیں۔ان کی طرف نہ جھکنا فَتَمَسكُمُ النَّارُ (هود: ۱۱۴) کہ جب انہیں سزا ملے تو تم بھی اس عذاب کی لپیٹ میں آجاؤ۔وَلَا تَطْغَوا کے معنی جیسا کہ میں نے بتایا اس حکم میں یہ ہیں کہ گناہوں میں حد سے نہ بڑھو۔اس کے ایک معنی یہ ہیں جو راہ اسلام نے انسان کو دکھائی۔جس راہ پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نقشِ پا ثبت ہیں۔جس کی وجہ سے آپ ہمارے لئے اُسوہ بن گئے۔اس راہ کے اندر بھی بعض Discretions ہیں یعنی انسان کو انتخاب کا اختیار دیا گیا ضرورت کے مطابق جس کو ہم عمل صالح کہتے ہیں یعنی انسان کے سامنے اسی راہ میں آگے چلتے ہوئے یہ بات آتی ہے کہ میں اس راہ کے دائیں طرف چلوں یا اس راہ کے بائیں طرف چلوں۔اگر وہ غلطی کرتا ہے اور دائیں طرف نہیں چلتا۔راہ وہی ہے۔صراط مستقیم لیکن اس صراط مستقیم کے دائیں طرف نہیں چلتا بائیں طرف چلتا ہے۔راستہ اس نے نہیں چھوڑا لیکن گناہ اس نے کر دیا کیونکہ موقع اور محل تقاضا کرتا تھا کہ وہ دائیں طرف چلے اور اس نے فیصلہ کیا اپنی سمجھ کے مطابق کہ میں بائیں طرف چلوں جو غلط فیصلہ تھا اور غلط فیصلوں پر تو ثواب انسان کو نہیں ملتا۔یہ میں نے مسئلہ بیان کیا ہے۔میں اب مثال دیتا ہوں اس کی۔اسلام کہتا ہے اگر کوئی تمہارا گناہگار ہو جائے تم پر زیادتی کرنے والا ہو تو تمہارے لئے اسلام کی صراط مستقیم میں دور ستے ہیں۔ایک عفو کر دینے کا اور ایک انتقام لینے کا۔ہر دو صراط مستقیم ہی ہیں یعنی عفو سے کام لینا موقع اور محل کے مطابق۔یہ بھی صراط مستقیم پر چلنا ہے۔موقع اور محل کے مطابق انتقام لینا، عفونہ کرنا، یہ بھی صراط مستقیم پر چلنا ہے لیکن ایک شخص اپنا فیصلہ کرتا ہے جو اس کو اختیار دیا گیا لیکن غلط کرتا ہے تو گناہگار بن گیا لیکن گناہ میں حد سے نہیں بڑھا۔وہ جو حدود قائم کر دیں اللہ تعالیٰ نے اس راستہ کی۔صراط مسقیم کی۔اس کے اندر ہی رہا ہے لیکن گناہ ہو گیا اس سے۔وہ چیز ہوگئی جو خدا کی نظر