خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 531
خطبات ناصر جلد هشتم ۵۳۱ خطبه جمعه ۴ جنوری ۱۹۸۰ء اسلام نے جو آداب سکھائے۔اسلام نے جو اخلاق ہمیں بتائے ان کے اوپر ایک ایک فقرہ ہو باقی تفصیل ان کو زبانی بتادی جائے۔عثمان فودی جو ایک مجدد گزرے ہیں پچھلی صدی میں شمالی نائیجیریا میں ، اس وقت کا جغرافیہ اور تھا ویسے کچھ اور علاقے بھی تھے بیچ میں۔انہوں نے ایک کتاب لکھی ہے بدعت اور سنت پر۔اور بڑی اچھی ہے حوالے دے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور آپ کی سنت کے حوالے دے کر مختصر بھی ہے اور اس سے استفادہ بھی کیا جا سکتا ہے۔آپ نے کہیں نہ کہیں تو حدیث سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشا دلینا ہے۔انہوں نے اپنا استدلال کیا ہے۔ہو سکتا ہے کہ ان کے زمانے میں جو استدلال درست تھا اب اس کے اندر کوئی اور بطن چھپا ہوا، سامنے ہمارے نظر آ جائے تو اس کو شامل کر لیں بڑی اچھی کتاب ہے۔مثلاً انہوں نے کپڑے کے متعلق کہا ایک میں بات بتادوں اگر اسلام ساری دنیا کے لئے ہے اور یقیناً اسلام ساری دنیا کے لئے ہے تو پھر ہر ملک کا لباس اسلامی لباس ہے۔یہ اس میں خشکی جب دماغ میں ہو یہ چیز نہیں لیتا۔ہر ملک کا لباس اسلامی لباس ہے۔اگر کسی ملک کا لباس اس قسم کا ہے کہ اس ننگ کو وہ صحیح طور پر ڈھانپتا نہیں جو اسلام نے کہا ہے ڈھانپو۔تو اتنی تبدیلی اس لباس میں ہو جانی چاہیے کیونکہ ایک اور حکم ہے جس کی خلاف ورزی کر رہا ہے وہ۔لیکن یہ کہنا کہ مغربی افریقہ کا لباس اسلامی نہیں باوجود اس کے کہ وہ یہ شرائط پوری کر رہا ہے کہ ستر جو ہے اس کو ڈھانک رہا ہے اور پنجاب کا جو لباس ہے وہ اسلامی ہے یا عرب کا لباس جو ہے وہ اسلامی ہے اور یورپ کا لباس اسلامی نہیں۔یہ بات ہی غلط ہے۔ساری دنیا کا وہ لباس جو ان شرائط کو پورا کر نے والا ہے وہ اسلامی ہے۔ہم نے اپنے پورے لباس میں نماز پڑھنی ہے۔اگر کسی ملک میں ایسا لباس ہے جو نماز پڑھنے میں دقت پیدا کرتا ہے تو اتنا حصہ درستی کے قابل ہے اس کی اصلاح ہو جانی چاہیے۔انہوں نے لباس پر لکھا ہے۔اصل میں یہ مثال دینے لگا ہوں۔انہوں نے لکھا ہے پورے حوالے دے کے، سر کا لباس اوپر کے دھڑ کا لباس، نچلے دھڑ کا لباس تینوں کو علیحدہ علیحدہ لیا ہے۔چھوٹا سا ایک صفحہ پونا صفحہ ہے۔انہوں نے لکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹوپی بھی پہنی سر پر۔