خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 526 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 526

خطبه جمعه ۴ جنوری ۱۹۸۰ء خطبات ناصر جلد ہشتم ۵۲۶ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ جو آواز تھی اس کو وقت کی اُمت مسلمہ نے اس طرح یا درکھا کہ کسی نے بھی اس کو پکڑ کے اس کے اوپر پھر اپنا سامان نہیں لا دا۔آپ نے کہا پھر اگر تم ملعون اس کو کہتے ہو تو اُمت مسلمہ میں کسی ملعون کی گنجائش نہیں ہے، چاہے وہ انسان ہو چاہے وہ حیوان ہو تو یہ معمولی چیز نہیں ہے۔ابو ہریرہ سے روایت ہے۔صحیح مسلم کی یہ حدیث ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور فرمایا اس کے جواب میں کہ بعض لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! مشرکین پر بددعا کریں۔أدْعُ عَلَى الْمُشْرِكِينَ تو آپ نے جواب دیا انّي لَمْ ابْعَثْ لَعَانًا میں دنیا کی طرف لعنتیں بھیجنے کے لئے مبعوث نہیں ہوا وَ إِنَّمَا بُعِثْتُ رَحْمَةٌ میں تو رحمتوں کے ڈھیروں ڈھیر لے کے انسان کی طرف آیا ہوں۔لعنت کا لفظ ویسے بھی بڑا ہی بھیانک معنی رکھتا ہے حضرت مسیح موعود نے اپنی کتب میں حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف جو بعض لوگ لعنت کو منسوب کرتے ہیں اس سلسلہ میں لعنت کے عربی لغت کے لحاظ سے جو معانی اور مفہوم ہیں ان کو بڑی بسط سے کھول کے شرح کے ساتھ بیان کیا ہے۔بہت لمبا ہے میں اس وسعت کے ساتھ یہاں نہیں بتاؤں گا آپ کو۔لعنت کے معنی ہیں دھتکارنا۔ناراض ہو کر دور کر دینا۔آخرت میں سزا دینا اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ بھی لعنت ہے اور دنیا میں جو شخص ملعون ہو خدا کی نگاہ میں رحمت سے محروم کیا جانا اور مقبول اعمال کی تو فیق اسے نہ ملنا اور آرام سے کہہ دیا کہ خدا کی لعنت ہو تم پر۔جس کے معنی یہ ہوں گے کہ اس دنیا میں خدا کی رحمت سے تم محروم رہو ہمیشہ اور تمہیں کبھی مقبول اعمال کی توفیق نہ ملے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں لعنتیں بھیجنے کے لئے نہیں آیا۔میں رحمتوں کے سامان پیدا کرنے کے لئے آیا ہوں۔تو جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا اور کیا اسی کی اتباع ہم نے کرنی ہے جو آپ کے ماننے والے اور متبعین کہلاتے ہیں۔یہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قول اپنے متعلق ہے اور یہ اُسوہ ہیں ہمارے لئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔مومن کے لئے بھی آپ کا ارشاد ہے۔ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:۔قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَكُونُ الْمُؤْمِنُ لَغَانًا۔