خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 520
خطبات ناصر جلد ہشتم ۵۲۰ خطبه جمعه ۴ جنوری ۱۹۸۰ء والے انسان کو، وحشت دور کر کے نرمی اور رفق پیدا کر کے اور پالش کر کے اور حسن پیدا کر کے ابتدائی طور پر اسے صحیح معنی میں انسان بناتا ہے۔چھوٹی سی چیز ہے کھانا کھاتے وقت دوسرے کے احساس کا خیال رکھو۔اس کا بلا واسطہ روحانی بلندیوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں لیکن بالواسطہ ہے کیونکہ جب تک انسان ، انسان نہ بنے روحانی ترقیات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔بیچ میں مدارج ہیں اور ان کا میں جان کے ذکر نہیں کر رہا۔ضرورت نہیں۔کھانا کھاتے وقت دوسروں کا خیال رکھو۔یہ وحشت جو انسان کی ہے اس کو دور کرتا ہے۔جانور کھاتے وقت دوسرے کا خیال نہیں رکھتا۔میں نے دیکھا ہے کہ گھوڑی اپنے بچے کا بھی خیال نہیں رکھتی۔میں بعض دفعہ باہر نکلتا ہوں تو اپنے ہاتھ سے برسیم ان کو دیتا ہوں۔تو اگر ساتھ گھوڑی کا بچہ ہو تو حالا نکہ گھوڑی کے منہ میں لقمہ ہوتا ہے۔میرے ہاتھ سے جو اس نے لیا، جب بچے کی طرف کرتا ہوں تو وہ منہ مار کے اس کو بھی چھینے کی کوشش کرتی ہے۔انسان کو جہاں یہ کہا کہ دائیں ہاتھ سے کھا وہاں یہ کہا کہ اگر اکٹھے کھا رہے ہو یا ویسے بھی تو ممّا يليك جو تیرے سامنے ہے، اسے کھا۔یہ نہیں کہ ادھر اُدھر ہاتھ مار کے اور پسند کی بوٹیاں، اگر پلاؤ کا تھال ہے تو بچن کے ایک شخص کھانا شروع کر دے اور دوسرا شخص جو ہے وہ ہاتھ ہی کھینچ لے۔ایک ہماری عربی کتابوں میں واقعہ آتا ہے وہ اس وقت مجھے یاد آیا۔ایک شخص نے لکھا ہے۔ہڈ وسردار تھا اس نے لکھا کہ میری بیوی میرے سامنے کھانا رکھتی تھی تو میری بیٹی ساتھ میرے کھایا کرتی تھی۔وہ کہتا ہے اتنی ذہانت اس میں اور اتنی شرافت اس میں اور ادب انسانی سے واقف اور باپ کا خیال رکھنے والی کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ جس لقمے کی طرف میری نگاہ اٹھی ہو اس کا ہاتھ اس طرف اٹھ گیا ہو۔پھر وہ بڑی ہوئی بیاہی گئی اپنے سسرال چلی گئی اور اس کی بجائے اس کا چھوٹا بھائی میرے ساتھ کھانے میں شریک ہو گیا تو اس کا یہ حال تھا وہ کہتا ہے کہ جس لقمے کی طرف میری نظر اٹھتی تھی اس لقمے کی طرف اس کا ہاتھ اٹھتا تھا۔یہ مثال بتاتی ہے کہ جب پالش ہو جائے ایک حسن، آداب کہتے ہیں اس کو ، آداب آجائیں، صحیح ، تو فرق پڑ جاتا ہے انسان انسان میں۔ایک حسن پیدا ہوجاتا ہے۔وہ تیار ہوجاتا