خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 515
خطبات ناصر جلد ہشتم ۵۱۵ خطبه جمعه ۲۸ /دسمبر ۱۹۷۹ء اور انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے روح پھونکی۔اس میں روح پڑ گئی اور وہ ایک جسم اپنی روح رکھنے والا پیدا ہو گیا۔تو یہاں ہمیں یہ بتایا گیا کہ انسان کے متعلق بھی اگر علم حاصل کرنا ہے تو پہلی انقلابی تبدیلی سے پہلے جو مدارج ہیں وہ بھی ایسے ہیں کہ جن پر تحقیق کرنی چاہیے۔خدا تعالیٰ کی آیات اور نشانات اور علامتیں جو خدائے واحد و یگانہ کی طرف لے جانے والی ہیں اس تحقیق کے اندر آپ کو ملیں گی اور جو خون کا لوتھڑا بننے کے بعد مختلف مدارج میں سے یہ خون کا لوتھڑا گزرتے ہوئے انسانی جسم پورا زندہ اور روح والا بنتا ہے ان پر آپ جب تحقیق کریں گے، اس تحقیق پر مطالعہ کریں گے، آپ دوسروں کو سکھائیں گے تو اس میں بھی بہت سی آیات باری جو ہیں وہ آپ کے سامنے آئیں گی۔اقرا علم حاصل کرو۔سیکھو کتاب سے بھی سن کے بھی ، وَ رَبُّكَ الْأَكْرَمُ اور پھر تم اس نتیجہ پر پہنچو گے کہ ربوبیت کرنے والا ہمارا پیارا خالق جو ہے وہ بڑا شرف رکھنے والا ہے۔اس کے شرف کی کوئی انتہا نہیں۔وہ اپنی ذات میں بھی شرف رکھتا ہے اور جہاں بھی عزت و شرف آپ کو نظر آتا ہے وہ اسی کی طرف رجوع کرتا ہے۔اور یہاں یہ بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ نوع انسانی کے علوم میں بہت زیادہ ترقی ہوگی اور انسان کی علمی ترقیات جو ہیں ان کے وسیع میدان کھولے جائیں گے اور یہ کام جیسا بعثت سے پہلے ہوتا تھا صرف اقرا سننے کے معنے میں اور آگے سنانے کے معنے میں وہاں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے علاوہ اس سے بڑھ کے ایک اور چیز آ جائے گی کہ قلم سے زیادہ کام لیا جائے گا اور جب قلم سے علم سکھائے گا اللہ تعالیٰ تو یہ جو قلم ہم لکھتے وقت ہاتھ میں پکڑتے ہیں، کانے کی کلک بھی ہے پرانی طرز کی۔نب بھی استعمال ہوئے۔اب بال پوائنٹ بھی بن گئے۔سکتے کی بھی پنسلیں بن گئیں۔وہ بھی قلم ہے۔سرخ بھی بن گئی اور بہت ساری بڑی اچھی قلمیں بن گئیں جو عرب گھوڑے کی طرح بہت دوڑنے والی ہیں۔یہ تو نہیں سکھاتی۔قلم ذریعہ بنتی ہے ایک ایسی چیز کا جس نے دنیا میں علوم کا انتشار پیدا کر دیا اور وہ ایک کتاب ہے۔قلم لکھنے کا