خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 488
خطبات ناصر جلد ہشتم ۴۸۸ خطبہ جمعہ کے ردسمبر ۱۹۷۹ء وہ تعدا د نہیں آسکتی اس کی وسعتوں کا اندازہ ہم نہیں لگا سکتے۔وہ کہاں ختم ہو گا۔کب ختم ہوسکتا ہے۔حضرت اقدس۔۔۔۔۔ناقل) نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دست قدرت سے جو چیز پیدا ہوئی ہے اس کی غیر محدود صفات ہیں۔اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی غیر محدود صفات کے جلوے ہر آن اس کے اوپر ہور ہے ہیں۔آپ نے فرمایا قیامت تک انسان کوشش کرتا رہے شخص کے ایک دانے کی صفات کا علم حاصل کرنے کی۔اس پر تحقیق کرے نئے سے نیا علم اس کے سامنے آئے گا۔قیامت تک کوشش کرے وہ شخص کے دانہ کی صفات کا احاطہ نہیں کر سکے گا۔وہ سارا علم اسے حاصل نہیں ہو سکے گا تو علم کا میدان اتنا وسیع ہے کہ اس کی وسعتوں کا اندازہ نہیں۔اس لئے کہ کائنات کی وسعتوں کا اندازہ نہیں اس لئے کہ کائنات میں سے ہر شے پر خدا تعالیٰ کی صفات کے جو جلوے ظاہر ہوتے ہیں ان کی وسعتوں کا کوئی اندازہ نہیں ہو سکتا۔میں نے جماعت کو بار بار اس طرف متوجہ کیا ہے کہ علم کی طرف وہ تو جہ دے اور اپنی نسل کو، اپنے بچوں کو زیادہ سے زیادہ پڑھائے۔ابھی پچھلے دنوں میں نے یہ کہا تھا کہ ہر احمدی بچہ کم از کم دسویں جماعت پاس ہونا چاہیے کم از کم اتنی تعلیم ہونی چاہیے۔علم کا حصول جو ہے نوع انسانی جس رنگ میں حاصل کرتی ہے اس میں بھی ہمیں ایک Pyramid نظر آتا ہے یعنی بنیاد اس کی چوڑی ہے اور پھر آہستہ آہستہ وہ تنگ ہوتا جاتا ہے اور پھر چوٹی میں وہ لوگ پہنچتے ہیں جو چوٹی کے دماغ رکھتے ہیں ڈاکٹر سلام جیسے۔مگر وہ ایک نہیں وہ بھی ہزاروں کی تعداد میں ہو سکتے ہیں اور ہونے چاہئیں۔اس پر میں نے کل کی اس گفتگو کے بعد جو بچے سے ہوئی بہت سوچا تو میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ جو میں نے یہ کہا تھا کہ کم از کم دسویں جماعت ہو وہ بھی صحیح نہیں کہا تھا بلکہ قرآن کریم کی تعلیم کی روشنی میں مجھے یہ کہنا چاہیے تھا کہ ہر بچہ اس مقام تک ضرور پہنچے جس کی استعداد اللہ تعالیٰ نے اسے دی ہے۔استعداد، استعداد میں فرق ہے تو جس قدر تعلیم میں بچہ آگے نکل سکتا ہے وہاں تک اسے پڑھنا چاہیے۔عملی زندگی میں داخل ہونے سے پہلے۔پھر وہ عملی میدان میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنی دوسری قوتوں اور صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر بنی نوع انسان کی بہتر خدمت کر سکتا ہے۔جب میں کہتا ہوں کہ ہر بچہ جہاں تک تعلیم حاصل کر سکتا ہے وہاں تک تعلیم حاصل کرے تو